حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 468
وَ کَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنُ الْجِبَالِ : اس زمانے میں بھی اس کا رنگ پایا جاتا ہے۔یعنی پہاڑ پر کوٹھیاں بنانا۔ایک سہل زمین ہوتی ہے۔ایک جبلی (یعنی پہاڑی) زمین۔دونوں مقامات پر اس کے زمانے کے لوگ بھی کوٹھیاں وغیرہ بناتے ہیں اور اس پر اِتراتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۸۴۔ : اس کے معنے عذاب کے ہیں۔آواز کے معنے بھی درست ہیں۔جب پہاڑوں میں بڑے بڑے زلزلے آتے ہیں تو زلزلوں سے پہلے گونج اور گرج پیدا ہوتی ہے۔صَاحَ الزَّمَانُ لِاٰلِ بَرمَکَ صَیْحَۃً خَرُّوْا لِصَیْحَتِہٖ عَلَی الْاَذْقَانِ برمکؔ ایک قوم تھی جس نے حضرت ہارون الرّشید علیہ رحمۃ اﷲ کے زمانہ میں بڑی ترقی کی۔انہوں نے تمام طاقتور جاگیروں اور علاقوں بلکہ شعراء و علماء کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ہارون الرّشید نے ان کی نیّت پر اطلاع پا کر انہیں ایک ہی وقت میں ہلاک کر دیا۔شاعروں کو چونکہ بہت انعام دیتے تھے۔اس لئے انہوں نے انکی سخاوتوں کی بڑی تعریف کی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۸۶۔ : یہ آیت اس اعتراض کے جواب میں ہے جواَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ سے کسی نادان دل میں پیدا ہو سکتا ہے کہ زلزلہ آنا تو ایک نیچرل رول ہے۔پھر زلزلہ آنے پر صلحاء کی ہلاکت بھی ہو جاتی ہے۔فرماتا ہے آسمان و زمین کو ہم نے حق و حکمت سے پیدا کیا۔ہم نے پہلے ہی سے یہ انتظام کر رکھا ہے۔عذاب اُسی وقت آئے گا۔جب صلحاء بالعموم نہ رہے۔اور زلزلہ اگر کسی ظاہری سبب سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا باطنی سبب یہی ہے اور ہم اسے خوب جانتے ہیں۔: عذاب کے لانے کیلئے صبر بھی بہت مفید ہے۔یہاں سے ایک اخبار ’’ شبھ چنتک ‘‘ نکلتا تھا۔وہ اس سلسلہ پر سخت مفتریانہ اور مضر حملے کرتا۔میرے دل میں بعض اوقات اس کے جواب کا جوش اٹھتا۔اس لئے میںنے ایک دفعہ حضرت کی خدمت میں عرض کیا۔تو فرمایا۔کہ تمہارے جواب سے کیا بنے گا؟ صبر کرو کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پھر ایک موقعہ آیا تو آپ نے توجّہ فرمائی اور ایسی توجّہ فرمائی کہ جنابِ الہٰی سے سرِدست قادیان سے ان کا صفایا ہی ہو گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء)