حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 45
دنوں کے بعد قدرت کے نظارے جب اَور رنگ دکھاتے ہیں اور سابقہ تجارب جھُوٹے اور کمزور ثابت ہوتے ہیں تو اسے اپنے خیالات کی تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔مثلاً اس سے پیشتر سب یہ مانتے تھے کہ ہوا اپنا بوجھ اشیاء پر ڈالتی ہے اور اب ایک کتاب لکھی گئی ہے کہ ہوا اپنا کوئی بوجھ نہیں ڈالتی۔اور یہ مسئلہ سابقہ علمِ طبعیات کی تحقیقات کے بالکل برخلاف ہے۔علیٰ ہذا القیاس۔پہلے زمانہ میں آگ کو ایک عنصر کہتے تھے۔مگر اب کہا جاتا ہے کہ یہ آگ صرف رگڑ کا نتیجہ ہے۔اس سے یہ بھی ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کی تحقیقات محدود ہے اور جس قدر ایجادات یا معلومات آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ ہوں وہ ہمیشہ اتفاقی ہوا کرتی ہیں اور جب ایک بات ہو جاتی ہے تو پیچھے سے انسان اس کیلئے وجوہات گھڑ لیتا ہے۔جن لوگوں نے علمِ سائنس اور طبعیات وغیرہ کے بڑے بڑے مسائل حَل کئے ہیں۔وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب مسائل اتفاقی طور پر ہی حل ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کا فرمانا بالکل سچ ہے (الحجر:۲۲)جب اﷲ چاہتا ہے تو کوئی بات یا مسئلہ کسی کو معلوم ہو جاتا ہے۔غرضیکہ قرآن نے ایسا اُسلوب بیان کا اختیار کیا ہے کہ ان نظاروں میں بھی اس کا اختلاف کہیں نہیں ہوتا۔کوئی تحقیقات کسی قسم کی کیوں نہ ہو۔آج تک قرآن کے خلاف ثابت نہیں ہوئے۔جس قدر نئی تحقیقات والے ہیں۔وہ تمام کلام اﷲ کے دشمن ہیں۔ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں قرآن پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔یورپ کے تاریخ دان۔نجومی۔اسٹرانومر۔سائنٹسٹ۔ڈاکٹر وغیرہ ہر عالم اپنے علم کی رُو سے قرآن کی مخالفت پر آمادہ لیکن ان میں سے کامیابی کسی کو نہیں ہوتی۔اور قرآن کسی سچّی بات سے بھی کہیں مخالفت نہیں کرتا۔اسی لئے مَیں ہمیشہ نئی تحقیقات کا متلاشی رہتا ہوں۔ہر ایک نئی ایجاد اور کتاب کو دیکھتا ہوں لیکن آج تک مجھے ثابت نہیں ہوا کہ قرآن کی تکذیب کسی طریق سے بھی ہوئی ہے۔پھر میرے جیسے آدمی کو تو بہت سے مشکلات کا سامنا ہے۔کیونکہ مَیں قرآن میں ناسخ منسوخ کا قائل نہیں ہوں۔لُغت عرب سے باہر نہیں جاتا۔حدیثوں کو مانتا ہوں۔باوجود اس کے مَیں نے کسی سچّی بات کو قرآن سے باہر نہیں دیکھا۔چہارمؔ وجہ اختلاف یہ ہوا کرتی ہے کہ جب مذہب پر کچھ زمانہ گزر جاتا ہے تو مذہب والے اپنے اصل مذہب سے دُور جا پڑتے ہیں اور اصل مذہب کا پتہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔جیسے اس وقت عیسائی مذہب کے بڑے بڑے عالم حیران ہیں کہ مسیح کی اصل کلام کدھر گئی اور اسکا کچھ پتہ نہیں ملتا۔پہلے بعض لوگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ متی کی انجیل پُرانی انجیل ہے۔لیکن اب اس کی مخالفت ہوئی ہے۔توریت میں بھی جھگڑا ہے کہ آیا وحی ہے یا نہیں۔لیکن ادھر اسلام میں دیکھو کہ ہر صدی میں نیا قرآن سنایا جاتا ہے۔اور جو مجدّد آتا ہے