حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 464 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 464

۴۳۔  جو میرے بندے ہیں تجھ کو ان پر کچھ زور نہیں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۶۰)  : کچھ ضرورت نہیں کہ عِبَادِیْ سے خاص بندے مراد لئے جاویں۔کسی آدمی پر شیطان غالب نہیں۔ہاں جب انسان خود اس کا کہا ماننے لگ جاتا ہے۔جیسا کہ مَیں نے بڑے بڑے ڈاکؤوں سے پوچھا ہے اور انہوں نے مانا کہ کوئی ہمیں جبراً نہیں لے جاتا۔بلکہ خود ہی جاتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۴۵۔  ۱؎ : دوزخ کے متعلق تو ہے بہشت کے متعلق کوئی آیت نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۲) ۴۶ تا ۴۹۔   تحقیق متّقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔انہیں کہا جائے گا کہ ان میں سلامتی سے داخل ہو جاؤ اور امن میں رہو۔اور جو کینہ اور کپٹ دنیا میں ان کے دِلوں میں تھا۔بہشت میں ہم ان کے دلوں سے نکال ڈالیں گے اور بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔اور اسی پر غور کرو کہ جب غیروں کے ساتھ بہشت والوں کا یہ سلوک ہو گا جس کا ذکر آیتِ بالا میں ہے تو اپنوں کے ساتھ کیا ہو گا۔(نورالدّین صفحہ ۱۲۸-۱۲۹) اَلْمُتَّقِیْنَ: تقوٰی اختیار کرنیوالے۔ایسے لوگوں کے عقائد صحیحہ ہوتے ہیں۔اﷲ پر ایمان فرشتوں پر۔کتابوں پر۔نبیوں پر ایمان۔جزا و سزا پر ایمان اور اعمالِ صالحہ کرتے ہیں۔اس لئے فرمایا مال کو خرچ کریں۔ذوی القربیٰ۔یتامیٰ۔مسالین۔سائلین۔غلاموں کے آزاد کرنے پر۔نمازیں پڑھیں زکوٰۃ دیں۔صابر ہوں۔( تنگی۔غریبی۔لڑائی۔بیماری کے اوقات میں) بس یہی متقی ہیں۔کچھ اور نشانات بناتا ہے۔وہ سلامتی کے گھر میں رہتے ہیں۔کسی نیک بندے کی نسبت ان کے دل میں رنجش نہیں رہتی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۵۰۔ امید و بیم مومن کیلئے دو پَر ہیں۔اﷲ کے حضور میں پہنچنے کیلئے۔اس کا ثبوت آگے آنے والے بیان میں دیتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۵۳،۵۴۔  : انبیائؑ کے قلب پر اس کا انکشاف ہو جاتا ہے چونکہ وہ ایمان لائے تھے۔: اس بچّے کے جوان ہونے کی خبر بھی دے دی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء)