حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 44

(النساء:۸۳)یعنی قرآن یا یہ دین خُدا سے نہ ہوتاتو البتّہ اس میں اختلاف ہوتا اور بہت اختلاف ہوتا۔حالانکہ اسمیں ذرا بھی اختلاف نہیں۔تیئس برس دُکھ اور سُکھ کے مختلف اوقات میں باتیں کیں۔مختلف احکام دیئے۔سُبحان اﷲ پھر سب کے سب باہم موافق۔قرآن آیات کو اسی واسطے متشابہات اور متشابہ کہتا ہے کہ ایک آیت دوسرے کی مصدّق اور مثل ہے۔مَیں دعوٰی کرتا ہوں۔کوئی شخص دو حدیث صحیح ایک مرتبے کی میرے سامنے لاوے میں اُسے تطبیق کر کے دکھائے دیتا ہوں۔(فصل الخطاب ( ایڈیشن دوم) جلد اوّل صفحہ۷۵۔۷۶)  (النساء:۸۳) کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔اگر یہ قرآن خُدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔قرآن کے منجانب اﷲ ہونے کے جو دلائل ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر یہ غیر اﷲ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف پاتے۔میں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ کیا کیا اختلاف ہو سکتے تھے تو ان میں سے مجھے چند ایک بڑے بڑے اختلاف یہ معلوم ہوئے ہیں۔اوّلؔ: انسان جب بات کرنے لگتا ہے تو اسکے مخاطب مختلف قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔کبھی جاہل کبھی عالم۔کبھی نادان۔کبھی کم سمجھ۔کبھی زکی الطبع۔تو ایسے موقع پر ایک سپیکر یا خطیب کو ناظرین کی طرز اور لیاقت کا خیال کر کے ان کے فہم اور عقل کے مطابق بات کرنی پڑتی ہے اور مختلف موقعوں پر اُسے مختلف کلام کرنے کا اتفاق پڑتا ہے تو اکثر اوقات دو مختلف موقعوں اور مجلسوں کی باتوں میں جو وہ کرتا ہے، بڑا اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ قرآن کو ہر ایک قسم کے مذاق کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے مگر اس میں یہ اختلاف بالکل ممکن ہی نہیں ہے۔قرآن جیسے مکّہ معظمہ کے جاہلوں کیلئے ہے ویسے ہی مدینہ طیّبہ کے بڑے بڑے عالم اور فقیہ یہودیوں کیلئے بھی ہے۔دومؔ زمانہ کی تعداد سے بھی آدمی کے بیان پر اثر ہوتا ہے۔مثلاً ایک لیکچرار متواتر تئیس برس تک لیکچر دیتا رہے۔تو اسکے پہلے اور پچھلے لیکچروں میں ضرور اختلاف ہو گا۔لیکن قرآن اس قسم کے اختلاف سے بھی بَری ہے۔اسکا طرزِبیان شروع سے لیکر آخر تک ایک ہی ہے۔سومؔ ایک وقت میں جب انسان لکھتا ہے یا کچھ تقریر کرتا ہے تو جن قدرت کے ارد گرد کے نظاروں کا اُسے محدود علم ہوتا ہے۔انہی کے مطابق وہ بیان کرتا ہے اور اپنے استدلال میں انہی کے نظائر لاتا ہے۔لیکن چند