حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 455
آئندہ کے واقعات قبل ازیں انسان کو معلوم ہوں۔یہ آدمی کو تڑپ لگی ہوئی ہے۔اس کے لئے مخلوق نے عجیب عجیب تجویزیں کی ہیں۔مَیں نے ایک شانہ بینی کی کتاب دیکھی۔ایک دُنبہ کو خا ص خیال پر ذبح کرتے ہیں۔اس کے شانہ کو پانی میں اُبال دیتے ہیں۔اس پر چند قطرے نظر آتے ہیں جن پر احکام مرتب کرتے ہیں۔دومؔ۔خطِ تقدیر اس کیلئے چار مقامات ہیں۔ا۔بعض نے ہاتھ کی شِکنوں پر کتابیں لکھی ہیں۔بعض نے چین جبین پر۔بعض نے انسانی بدن کی دوسری لکیروں پر۔بعض نے خانوں پر۔ایک اور علم ہے جو کھوپڑی کے متعلق ہے۔اس علم کی بھی یہی غرض ہے۔رَمل بھی اسی لئے سیکھی جاتی ہیکَانَ نَبِیُّ یَخُطُّ کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔حالانکہ کیَخُطکییہ معنی نہیں کہ نقطے ڈال کر شکلیں بنائی جاویں۔اور پھر ان پر احکام مرتب کریں۔پانسے جو ہیں۔وہ بھی اسی غرض کیلئے ہیں۔پھر پرندوں کے بائیں یا دائیں نکلنے پر بحث کرتے ہیں۔پھر ایک علم ہے۔سرودہ۔جسے عربی میں علم النفس کہتے ہیں۔یہ ناک کے سانسوں پر احکام مرتب کئے جاتے ہیں۔اختلاج الاعضاء اور سیاہ خال سے بھی غیب دانی کرتے ہیں۔یہ ادنیٰ طبقے کے لوگ ہیں۔ان سے اعلیٰ نجوم کا علم ہے جس کے دو حصّے ہیں۔ایک سورج گرہن۔چاند گرہن اور تاریخ۔پھر ان پر احکام لگاتے ہیں۔ایک جفر کا علم ہے۔اس سے بڑے بڑے احکام نکالنے کے دعوے کرتے ہیں۔ایک قوم ان سے بھی آگے ہے۔جنہیں کاہن کہتے ہیں۔ان کا چھوٹا سا شعبہ یورپ۔امریکہ میں آجکل پایا جاتا ہے۔اس کو سپرجولزم کہتے ہیں۔انسان کی روحوں وغیرہ سے اس کے ذریعہ مکالمہ کیا جاتا ہے۔ایک ان سے کسی قدر آگے ہیں۔وہ ہمارے ملک میں حاضرات والے کہلاتے ہیں۔چھوٹے جھوٹے بچّوں کو معمول بنا کر ان سے کام لیتے ہیں۔