حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 43
(المومن:۵۲) بے ریب ہم ( اﷲ تعالیٰ اور اسکے ملائکہ) نُصرت دیتے ہیں اپنے مُرسلوں کو اور انکو جو ایمان لائے (مانا ان رسولوں کو) اس وَرلی زندگی میں۔اور فرمایا (المنافقون:۹) اور اﷲ ہی کیلئے عزّت ہے اور اُسکے رُسولوں کیلئے اور مومنوں کیلئے اور فرمایا (البقرہ:۶) وہی ہدایت پر ہیں اور وہی مظفر و منصور اور بامُراد ہیں۔دیکھ! فرمایا سرمُو تفاوت اس میں نہ ہوا۔نبی کریمؐ اور آپؐ کے جاں نثار صحابہ کرامؓ تمام مخالفوں کے سامنے مظفر مُنصور بامُراد رہے۔اگر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات نہ ہوتی تواُسکے خلاف ہوتا۔اور یہ بات مجُنون کی بَڑ بن جاتی۔مخالفوں کے حق میں فرمایا۔ (المجادلہ : ۲۰)یہ ُمخالف شیطانی گروہ ہے۔خبردار رہو۔بے ریب شیطانی گروہ ناکا رہے گا۔اور فرمایا (الانفال:۳۷)تیرے مخالف مال و دولت خرچ کریں گے پھر ان پر افسوس ہو گا اور مغلوب ہوں گے ( اب ہمارے مخالف بھی اموال خرچ کرتے ہیں۔دیکھیں کہ کس قدر وہ خرچ مفید ہوتا ہے۔)پھر بار ہا بتایا کہ مُنکروں پر عذاب آئے۔عرب ریگستان کے باشندے۔خشن پوش کھجور پر زندگی بسر کرتے تھے ان کیلئے کہا گیا۔ (البقرہ:۲۶)پھر دیکھا اب تک ہم لوگ قریش اس جنّت کے مالک ہیں۔وہ بصیرت تو تم کو نہیں کہ اتباع نبی کریمؐ کو حقیقی جنّتوں کے بھی وارث ہوئے دیکھتے۔مگر ظاہری جنّت کی وراثت سے تم بے خبر نہیں ہو سکتے۔جنابِ الہٰی نے آپؐ کے مخالف منافقوں کیلئے خبر دی اور فرمایا۔(التوبہ:۷۴) انہوں نے بڑے بڑے ارادے کئے مگر کامیاب نہ ہوئے۔پھر دیکھا کوئی کامیاب ہوا؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔اگر قرآن کریم اﷲ القادر اور العالم کی طرف سے نہ ہوتا تو اسکی کوئی تعلیم تو سُننِ الہٰیہ ثابتہ کے خلاف ہوتی۔کیونکہ تم مانتے ہو کہ اَن پڑھوں میں اَن پڑھ رسول تھے۔عرب میں کوئی کتاب، مدرسہ یونیورسٹی قرآن کیلئے نہ تھی۔وہاں اگر یہ کتاب تصنیف ہوئی تھی۔تو تیرہ سو برس کی تحقیقاتِ یورپ نے کوئی امر قرآن کریم کا خلافِ سائنس ثابت کر دیا ہوتا۔مگر میں چیلنج کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکا۔پھر قرآن کریم کی تعلیم مشترکہ تعلیم انبیاء و رسل کے خلاف نہیں۔اٹکل پجّو باتیں کرنے والے کی باتیں اکثر غلط نکلتی ہیں۔پس اگر قرآن کریم اﷲ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کی اکثر باتیں غلط نکلتیں۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۳۸۔۲۳۹)