حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 441
ہے۔ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے وجود کو قرآن شریف میں شیطان کہا گیا ہے۔کیا کوئی انکار کر سکتا ہے کہ ایسے شریر موذی وجودوں سے کبھی کوئی زمانہ خالی ہوا ہے۔جیسے اس وقت میں مُضِلّ اور مُغْوِی وجود ہیں اور سب قوموں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے۔اسی طرح آدمؑ کے وقت میں بھی ایک شریر بلکہ موذی وجود آدم کے مقابل تھا۔بہکانے والے وجودوں کا کائنات میں موجود ہونا امرِ واقع ہے۔کوئی شخص نادانی سے قرآن شریف کی اصطلاح سے اگر چِڑتا ہے تو کیا وہ واقعاتِ عالم کی بھی تکذیب کر سکتا ہے۔(نورالدّین صفحہ۸۶) ۲۵۔ : بہت بلندی میں ( حضرت صاحب نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ پاکیزہ بات دل میں گڑ جاتی ہے اور اس پر اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۲۷۔ : صحابہ کرامؓ نے فرمایا ہے کہ جیسے حنظل کا درخت۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۲۸۔ : اﷲ ظالموں پر گمراہی کا حکم لگاتا اور انہیں گمراہ ٹھہراتا ہے۔(نورالدّین صفحہ۸۱)