حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 438 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 438

۱۲۔   : یہ تفاوت خود انسان کے وجود میں بھی ہے۔ایک مکان ہے جس سے پاخانہ نکلتا ہے۔لیکن ایک جگہ ہے جس سے خدا کا نام نکلتا ہے۔پس وہ مالک اور حکیم و علیم ہے۔جس پر چاہے اپنے مکالمہ اور پسندیدگی کا انعام کرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۱۴۔  انسان کو جس چیز کی عادت یا الّت پڑ جاتی ہے وہ اس کو چھوڑتا نہیں۔حُبَُّکَ الشَّیْیئَ یُعْمِیْ وَ یَصُمُّ۔وہ محبوب کے عیوب کا بینا و شنوا نہیں ہوتا۔انبیاء جب سچائی کو لاتے ہیں۔انکی تعلیم کے دو حصّے ہوتے ہیں۔ایک حصّہ عقائد کے متعلق جس کے دلائل بڑے کُھلے ہوتے ہیں۔مثلاً اﷲ کو ماننا۔فرشتوں پر ایمان لانا۔کتب پر ایمان لانا۔انبیاء پر ایمان تقدیر پر ایمان۔جزا و سزا پر ایمان۔دوسرا حصّہ عملدر آمد کا ہے جو تعامل کے نیچے ہوتا ہے۔اس میں بھی کوئی مشکل نہیں۔مشترک تعامل دیکھ لے۔بعض باتیں علمی تد بّرات کیلئے ہوتی ہیں۔مجتہدین دائمہ دین کا امتیاز ایسے ہی مسائل پر ہوتا ہے۔نبی جب آتے ہیں تو ایک گروہ انکی تعلیم کو اپنی رسم۔عادت و الّت کے خلاف دیکھ کر مقابلہ کیلئے اٹھتا ہے اور کفر و عناد میں یہاں تک پہنچتا ہے کہ کہہ دیتا ہے۔: ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے مگر کہ تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ۔اَوْبمعنیحَتّٰی اورلَاکِنْہے۔امراء القیس اپنے ساتھ والے کو کہتا ہے۔جب اپنے باپ کو بدلہ لینے کیلئے شاہِ روما سے مدد لینے جاتا ہے اور کہتا ہے۔