حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 437
: اس کے دو معنے کئے گئے۔لوٹائے ان کافروں نے ہاتھ اپنے نبیوں کے مُنہ پر یعنی بدمعاش ان کے مُنہ پر ہاتھ رکھ دیتے کہ آپ بات نہ کریں۔ہم نہیں سُننا چاہتے۔دوسرے معنے جو عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ(آل عمران:۱۲۰) کے مطابق ہیں یہ کہ اپنے ہاتھ اپنے منہ میں ڈالتے تھے بوجہ شدّتِ غیظ و غضب۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۱۱۔ : چار قسم کے لوگ ہیں ایک عام جو خواص سے سُن کر ایمان لائے ہیں دومؔ جو کتب پڑھ کر یقین کرتے ہیں۔سومؔ گروہ حکماء کا ہے جو عالم کے نظام کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب ایک گھڑی خود بخود نہیں بنتی۔تو یہ کارخانہ اتنا بڑا کارخانہ خدا کے بغیر کس طرح چل سکتا ہے۔چہارمؔ گروہ ہے اﷲ کے پیارے بندوں کا جن کو یقین ہوتا ہے۔اس لئے خدا ان سے کلام کرتا ہے اور انہیں اپنی قدرت نمائیوں سے یقین دلاتا ہے۔یہ گروہ تعجب انگیز ترقی کرتا ہے اور خدا پر ایسا یقین رکھتا ہے۔کہ جو ذرا بھی شک رکھنے والا دیکھیں تو تعجّب سے کہتے ہیں۔کیا اﷲ کے معاملہ میں بھی شک ہو سکتا ہے؟ : وجدانی شہادت کے بعد دلیل بھی دی ہے جو حکماء کی دلیل ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ ہم سے خود بولتا ہے۔اس نے ہمیں کہا ہے کہ خلقت کو میری طرف بلاؤ تا مَیں ان کے گناہ معاف کردوں۔کمزوریاں ڈھانپ لوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء)