حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 436
۸۔ ایک شخص کو گدا ۱؎ کی عادت تھی۔دن بھر لقمہ کیلئے پھرتا رہتا۔آخر اس نے کعبہ کا دامن پکڑ کر توبہ کی اور دیاسلائیاں بیچنی شروع کیں اور چار پیسے سے تجارت شروع کی۔جس کے چھ پیسے بن گئے آخر یہاں تک نفع حاصل ہوا کہ وہ ایک کوٹھی کا مالک بن گیا۔اصل یہ ہے کہ صداقت و راستبازی پر چلے اور جو نفع مل جائے لے لے۔یہ شکر گزاری کا نتیجہ تھا۔ایک عورت نے مجھے طبابت میں ایک دھیلا دیا۔جسے میں نے شکریہ سے لیا اور ہزاروں کمائے۔: اَعْلم۔علم دے دیا۔بتا دیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) شکر کرنے پر از دیا دِ نعمت ہوتا ہے۔۔لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے۔۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۷) مسلمانوں سے حمد اُٹھ گیا۔وہ کبھی اپنی حالت پر راضی نہیں ہوتے اور نہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔جب سے حمد و شُکر اٹھا۔خدا تعالیٰ کا انعام بھی اُٹھ گیا۔ کو نہیں سمجھتے۔تم اﷲ تعالیٰ کی بہت حمد کیا کرو۔۱؎ یعنی مانگنے۔سوال کرنے۔مرتّب ہماری کتاب بھی سے شروع ہوتی ہے۔ہمارے خطبے بھی سے شروع ہوتے ہیں… اور اس حمد کیلئے اسی سے مدد طلب کرو اور اﷲ کو ہر حال میں یاد رکھو۔وہ تمہیں یاد رکھے گا۔(الفضل ۹؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) ۱۰۔