حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 434
ہیں۔ان کے اعمال میں کوئی کدورت نہیں ہوتی۔ان کا معاملہ اﷲ کے ساتھ صاف ہوتا ہے۔وہ خدا کے حضور احکام کی تعمیل کیلئے اوّل صف میں کھڑے ہونے والے ہوتے ہیں۔وہ اس دارالغرور میں دل نہیں لگاتے۔چنانچہ تصوّف کی تعریف ہیں فرمایا۔التَّجَا فِیْ مِنْ دَارِالْغُرُوْرِ وَ الْاِنَابَۃُ اِلٰی دَارِالْخُلُوْدِ۔صوفی موت کی تیاری کرتا ہے قبل اس کے کہ موت نازل ہو۔ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ رہتا ہے یہاں تک کہ وسیع تجارت اس کو اﷲ تعالیٰ سے غافل نہیں کرتی۔((النور:۳۸) اصحاب الصفّہ انہی لوگوں میں سے ہیں۔یہ لوگ دن پھر محنت و مشقّت کرتے۔اس سے اپنا گزارہ کرتے اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاتے اور پھر رات بھر وہ تھے اور قرآن شریف کا مشغلہ۔صحابہؓ میں تین گروہ تھے۔بعض ایسے کہ حضورِ نبویؐ میں آئے کچھ کلمات سُنے۔کچھ مسائل پوچھے پھر چلے گئے اور بس۔نماز پڑھ لی۔زکوٰۃ دی۔روزہ رکھا۔بشرطِ استطاعت حج کیا اور معروف امور کے کرنے اور نواہی سے رُکنے میں حسبِ مقدور کوشاں رہے۔اور بعض ایسے جو اکثر صحبت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم میں بیٹھے رہتے۔اس مخلوق کے اندر ایمان رَچا ہوا تھا۔سخت سے سخت تکلیف۔مصیبت اور دُکھ اور اعلیٰ درجہ کی راحت آرام اور سکھ میں ان کا قدم یکساں خدا کی طرف بڑھتا تھا۔انہی لوگوں میں سے خواص ایسے تیار ہو گئے کہ خدا ان کا متولّی ہو گیا۔مجھے اس موقعہ پر ایک شعر یاد آ گیا۔قَوْمٌ ھُمُوْ مُھُمْ بِاللّٰہِ قَدْ عَلِقَتْ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سارا خیال انکو اﷲ کا رہ جاتا ہے اور اس کے بغیر کسی کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔نبی کی اتباع وہ کرتے ہیں مگر اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کہ اﷲ نے حکم دیا۔بیوی بچوں سے نیک سلوک بھی اسی لئے کرتے ہیں۔وہ دنیا کے کاروبار کرتے ہیں۔چھوڑ نہیں بیٹھتے۔مگر یہ سب باتیں۔یہ سب کام ان کے للّٰد ہوتے ہیں۔چنانچہ فرمایا ؎ فَمَطْلَبُ الُقَوْمِ مَوْلَاھُمْ وَ سَیِّدُھُمْ یَاحُسْنَ مَطْلَبِھِمْ لِلْوَاحدِالصَّمَدٖ (بدر ۲۷؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ۸-۹) ۴۔ : ایک عِوَج آیا۔ایک عَوِج۔دین و زمین میں عِوَج بولتے ہیں۔اور عَوَج نیزہ، دیوار۔دانت پر بولتے ہیں۔بعض لوگ ٹیڑھا رہ کر سیدھی راہ کو چاہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۵۔ : معلوم ہوا کہ رسول کے نُوّاب کو بہت سی زبانیں سیکھنی چاہئیں تاکہ سب کو کھول کر دینِ حق سکھا سکیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء)