حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 433
بڑھتی اور وہ نبی کو اس کی نبوّت کی حیثیت سے پہچانتا ہے تو اس کی کتاب کو پڑھتا ہے۔پھر جزا و سزا کے مسئلہ پر ایمان لاتا ہے۔اور اس طرح اسکا ایمان آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔چنانچہ جبرائیل ؑ کے سوال مَاالْاِیْمَانُ کے جواب میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔اَنْ تُؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالقَدْرِ خَیْرِہٖوَشَرِّہٖ۔غرض جب مومن کفروشرک کی ظلمات سے قوم کے رسوم۔قوم کے تعلقات۔بزرگوں کی یادداشتوں کی ظلمات سے صحبتِ نبویؐ کی برکات سے نکلتا ہے اور اس کے دل سے حُب لغیر اﷲ اٹھتی جاتی ہے تو پھر وہ اﷲ جل شانہٗ کے سارے احکام کو شرح صدر سے مانتا اور اس کیلئے تمام ماسوٰی اﷲ کے تعلقات کو توڑ دیتا ہے۔اور محض اﷲ ہی کا ہو جاتا ہے تو یہ تیسرا درجہ سے جسے احسان کہتے ہیں۔اوریہ مومن کی اس حالت کا نام ہے جب اسے ہر حال میں اپنا مولیٰ گویا نظر آنے لگتا ہے اور وہ مولیٰ کی نظرِ عنایت کے نیچے آجاتا ہے اور وہ غالباً اس کی رضامندی کے خلاف کوئی حرکت و سکون نہیں کرتا۔چنانچہ جبرائیل کے سوال اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ کے جواب میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں۔۔اَنْ تَعْبُدَ اللٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْتَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ۔تو اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری ایسی کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تُو نہیں دیکھتا تو یہ سمجھے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔مثال کے طور پر یہ دیکھ لو جب انسان کسی امیر یا بادشاہ کو اپنا محسن و مربیّ سمجھے تو پھر اس کے سامنے اَور سب کچھ بھول جاتا ہے اور اس کے مقابل میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔یا مثلاً بعض لوگ مکان بناتے ہیں تو اس کی تعمیر کی فکر میں ایسے مبہوت ہو جاتے ہیں کہ گویا مکان میں فنا ہو گئے ہیں۔مومن کو چاہیئے کہ اس طرح پر اﷲ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاوے۔یہاں تک کہ اس کے بغیر اسے کوئی خیال نہ رہے۔اس درجہ احسان کو دوسرے لفظوں میں تصوّف کہتے ہیں اور ان کا نام صوفی ہیلِصَفَائِ اَسْرَارِھِمْ وَنِقَائِ اَعْمَالِھِمْ۔ان کے دل خیالات صاف ہوتے