حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 431
سُوْرَۃُ اِبْراَاھِیْمَ مَکِّیَّۃٌ ۲،۳۔ یہاں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو ظلمات سے نور کی طرف نکالنے والا فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا گزرتا ہے کہ اس کیلئے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا وعظ موجب بنتا ہے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جانے کا۔مگر ایک اور جگہ پر فرمایا ہے۔(البقرۃ:۲۵۸) گویا وہی نسبت جو پہلے نبی کریں صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف فرمائی۔پھر اﷲ نے وہی کام اپنی طرف منسوب فرمایا۔یہ بات قابلِ غور ہے۔حضرت جبرائیل۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ کی خدمت میں لوگوں کو دین سکھانے کیلئے آئے اور پہلا سوال یہی کی کہ یَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ۔اسلام نام ہے فرماں برداری کا۔سارے جہان کو تو موقعہ نہیں کہ اﷲ کی باتیں سُنے۔اس لئے پہلے نبی سنتا ہے پھر اوروں کو سناتا ہے سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صحبت میں رہے۔اور اس سے فرماں برداری کی راہیں سنے اور سیکھے چنانچہ اس بناء پر نبی کریں صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے یہ سمجھایا کہ (آل