حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 430
ہے اور اہل ِکتاب کی عام عادت ہے کہ اسماء کا ترجمہ کر دیتے ہیں۔ایسا ہی تفسیر کو متن سے ملا دینا بڑا عیب ہے کیونکہ تفسیر مفسّر کا خیال ہوتا ہے جس میں صحت اور غلطی دونوں کا احتمال قوی ہے۔بشارات میں یہ نقص نہایت مضر ہوا۔محمدیؐ بشارت جیسے سلیمان کی غزل الغزلات میں ہے۔اگر اس میں لفظ محمدیمؐ کا ترجمہ نہ کیا جاتا تو کیسی صاف تھی۔اور نمونہ۔۸باب ۳۔اشعیا مہر شالال حشنبزنام بنہ اور عربی ترجمہ ۱۸۲۵ء میں ہے۔ادع اسمہ اغنم بسرعۃ وانھب عاجلاً۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۴-۱۵)