حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 428 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 428

۴۳۔  مَکَرَ: ہمارے ملک میں اس کے معنے خراب ہو گئے ہیں۔دیکھئے عرب میں گالی یہ ہے کہ کسی کو کہنا شکست پا گیا۔یا اس نے قحط میں بھوکوں کو کھانا نہ دیا اور ہمارے ملک میں گالی کا مفہوم پورا نہیں ہوتا جب تک اپنی ماؤں کو سوروں کے سپرد نہ کر لیں۔مکرؔ عربی میں تدبیر کو کہتے ہیں۔اور یہ تدبیریں دو قسم کی ہیں بُری اور پاک۔چنانچہ قرآن کریم میں فرما دیاہے۔وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (آل عمران:۵۵) وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السّٰیِّیئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ (فاطر:۴۴) یاد رکھو کہ ہمیشہ لفظوں کے وہ معنی لیں۔جو کہ اصل زبان میں ہوں۔ہندوستان کا مذاق عجیب ہے۔لکھنؤ میں خلیفہؔ حجام کو کہتے ہیں اور لواطت کی مرض کو علت المشائخ۔حالانکہ عربی زبان میں خلیفہ اور شیخ بڑے پاک اور اعلیٰ خطاب ہیں۔: چور۔زانی۔شراب خور۔غرض تمام نافرمان کبھی اخیر عمر میں سُکھ نہیں پاتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء)