حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 427
: یعنی تمہاری جلدی ہی خبر لی جاوے گی۔یہ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ کو کھولا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ہر زبان میں یہ محاورہ ہے کہ مکان سے مکان والے مراد ہوتے ہیں جسے نحوؔ میں ظرف بمعنی مظروف سے تعبیر کرتے ہیں۔ذرا متی کی انجیل ۱۱ باب ۲۱ اٹھا کر پڑھو ’’ ہائے خورزیں ! تجھ پر افسوس۔ہائے بیت صیدا ! تجھ پر افسوس۔کیونکہ یہ معجزے جو تم میں دکھلائے اگر صور و صیدا میں دکھلائے جاتے تو ٹاٹ اوڑھ کے اور خال میں بیٹھ کے کب کی توبہ کرتے۔‘‘ پھر متی ۲۳ باب ۳۷ دیکھو۔’’ اے یروشلم! اے یروشلم جو نبیوں کی مار ڈالتا اور انہیں جو تیرے پاس بھیجے گئے سنگسار کرتا ہے کتنی بار میں نے چاہا تیرے لڑکوں کو جمع کروں‘‘ دیکھو متی کی ان آیات میں خورزیںؔ اور بیت صیداؔ اور یروشلمؔ سے اسکے مکین مرا دہیں۔بولنے میں تو مکان بولا گیا ہے۔پر مقصود مکان والے ہیں۔ایسا ہی قرآن کریم کی اس آیت ہیں۔الارضؔ سے جو معرّف بالف لام ہے خاص زمین والے یعنی اہلِ مکّہ مراد ہیں۔مقصود آیت کا یہ ہے کہ باری تعالیٰ مکّہ کے رؤوسا اور شرفاء کو نصیحت کرتا اور عبرۃً ارشاد فرماتا ہے’’ کیا انہوں نے ( اہلِ مکّہ نے) نہیں دیکھا کہ ہم مکّہ والوں کے پاس آتے ہیں اور انکی طرف کو گھٹاتے چلے آتے ہیں۔‘‘ اطراف کے معنی سمجھنے کے لئے اس فقرے پرغور کرنا واجب ہے جو ابوطالبؔ نے وفات کے وقت اپنی آخری اسپیچ میں کہا۔وَ ھُوَ ھٰذَا وَ اَیْمُ اللّٰہِ کَاَنِّی اَنْظُرُ اِلٰی صَعَالِیْکَ الْعَرَبِ وَ اَھْلِ الْاَطْرَافِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ النَّاسِ قَدْ اَجَابُوْا دَعْوَتَہٗ۔اور خدا کی قسم مَیں دیکھتا ہوں کہ عرب کے غریبوں اور اہلِ اطراف اور کمزور لوگوں کو۔محمدؐ کے کہنے کو مان لیا ہے۔اس اسپیچ میں ابوطالب گویا تمام رؤوسائے مکّہ کے روبرو اس آیت کی تصدیق کرتا ہے… اور کہتا ہے اے مکّہ والو! اہل ِ اطراف نے تو اس کی یعنی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی باتوں کو مان لیا ہے۔اور تعلیم الہٰی اور کلامِ ربّانی کا اطراف میں آنا یعنی پھیلنا گویا خدا کا اطراف میں آنا ہے۔حاصل کلام آیت یہ ہوا۔کہ کفّار کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے اور مسلمان دن بدن بڑھتے چلے جاتے ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۴۰۔۱۴۱) کیا اس وقت تم نہیں دیکھتے کہ نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا کیسے واضح طور پر پورا ہو رہا ہے۔اعلیٰ درجہ کے عظیم الشان لوگ طرف کہلاتے ہیں۔اس لئے کہ وہ ایک طرف ہو کر بیٹھتے ہیں اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں میں سے بعض سلیم الفطرت ہوتے ہیں وہ بھی طرفؔ کہلاتے ہیں۔یعنی تمہارے اعلیٰ اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں میں سے یا یہ کہو کہ ہر طبقہ اور درجہ میں سے جو عظیم الشان اور سلیم الفطرت لوگ ہیں وہ سب کے سب اسلام میں داخل ہو کر تمہاری جمیعت کو دن بدن کم کر رہے ہیں۔غرض مامور من اﷲ کا وجود ایک حجۃ اﷲ ہوتا ہے۔اس کی جماعت بڑھتی جاتی اور اس کے مخالف دن بدن کم ہوتے جاتے ہیں۔(الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ۶)