حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 422
فلمو انّھا نفس تموت سریحتہٗ وَلکِنَّھَا نفس تقطع انفسا : اس کے معنے میں بعض لوگوں نے دھوکہ کھایا ہے۔بلکہ ایک کافر نے ٹھٹّھا اڑایا ہے چنانچہ وہ اَلْقَارِعَۃُ مَاالْقَارِعَۃُ کے معنے لکھتا ہے۔ٹھوکنے والی تو کیا جانتا ہے۔ٹھوکنے والی۔عربی زبان میں چھوٹے لشکروں کو قارعہ کہتے ہیں۔قارعہ کے معنے ہیں کَتِیْبَۃٌ وَ سَرِیَّۃٌ۔وہ دستہ فوج جو دشمن کی سرکوبی کیلئے بھیجا جاوے۔خداوند فرماتا ہے پہلے ہم چھوٹے چھوٹے دستے سرکوبی کیلئے بھجوائیں گے… یہاں تک ( یہ اَوْ کے معنے ہیں۔) کہ تو ان کے دار ( مکّہ) میں فتحیاب داخل ہو گا۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپؐ مکّہ کہاں نازل ہوں گے۔تو آپؐ نے فرمایا۔کہ خیف بنی کنانہ۔جہاں کہ قطع تعلقات کا کفّار نے مشورہ کیا تھا۔آجکل اس کا نام معبدۃؔ رکھا ہوا ہے۔: یعنی لِلّٰہَ الْاَمْرُجَمِیْعًا کا وقت ( جب اس علاقہ میں اسلامی حکومت ہو جاوے) آ جاوے گا۔یہ لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰۃٌ (الرعد:۲۸) کا جواب دیا ہے کہ نشان تم جس طرح مانگتے ہو وہ بھی دکھا دیا جاوے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) سُیِّرَتِ: پہاڑوں سے پر ے تک پہنچایا گیا۔کُلِّمَبِہِ الْمَوْتٰی: بڑے بڑے کفّار کو سنایا گیا۔یہ سب کچھ کیا گیا تو کفّار کہاں ہوں گے۔اﷲ ہی کی سلطنت اس تمام ملک پر ہو جائے گی۔: کیا نہیں جانتے؟ (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۱) ۳۳۔ خداوند تعالیٰ نے مخلوق کو رنگ برنگ بنایا ہے۔ہم اس وقت جس قدر اشخاص موجود ہیں۔دیکھو سب کی خواہشیں اور غرضیں الگ الگ ہیں۔عمر کے اعتبار سے تدبیریں سب کی جدا جدا ہیں۔بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ساری دنیا ایک ہی رنگ میں رنگین ہو جاوے۔ہرگز ساری دنیا ایک رنگ میں رنگین نہیں ہو سکتی۔یہ بات غلط ہے کہ ساری دنیا ایک حالت میں ہو جاوے۔اﷲ تعالیٰ کے رسول جب آتے ہیں تو وہ اﷲ تعالیٰ کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔اور گویا خدا کے حضور