حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 421

۳۲۔    : اُڑا دئے گئے۔یا چلائے گئے پہاڑ۔: زمین دور تک قطع کر دی جائے۔لَوْکا جواب مذکور نہیں۔اس لئے جزاء کی نسبت اختلاف ہے۔دو جواب اس کے بتائے ہیں۔قُرْاٰنًا: سے مراد کوئی کلامِ الہٰی ہے۔پس فرماتا ہے۔کہ اگر کسی کلامِ الہٰی میں یہ بات ہے۔کہ اس سے پہاڑ چلائے جائیں۔زمین قطع ہو۔مُردے بولیں تو ہم اس قرآن میں بھی دکھا دیں گے۔دوم: یہ کہ اگر قرآن سے ہم ایسا بھی کر دیں تو وہ یہی قرآن ہے۔میری سمجھ میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے تمام جبال یعنی امراء کو اڑا دیگا۔اور تمام زمین میں پھیل جاوے گا۔اور مُردہ دل کفّار زندہ مومن بن جاویں گے۔: بلکہ سُن رکھو کہ تم ملک میں اسلامی حکومت ہو جاوے گی۔کے معنے یَتَبَیَّنُ کے ہیں۔یعنی کیا نہیں جانا؟ دو شعر بڑی جستجو سے مجھے ملے ہیں۔اقول لھم بالشعب اذیا سروننی الم تَیّاُ سُوا اُنی ابن فارس زیدم مجھے شعب میں قید کرنے لگے تو میںنے کہا کہ تم کو علم نہیں اس بات کہ میں کون ہوں۔ایک امراء القیس کا شعر مجھے ملا جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔فلمو انّھا نفس تموت سریحتہٗ وَلکِنَّھَا نفس تقطع انفسا