حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 416
ایک آریہ کے اس سوال کے جواب میں کہ یہ عالَم کس نے بنایا۔تحریر فرمایا: ’’ قرآن کریم نے اس سوال کے جواب پر سینکروں دلائل دئے ہیں۔اور بطور نمونہ بعض دلائل کا ذکر فرماتے ہوئے دلیل لِمّی کا ذکر فرمایا ہے۔’’ فرمایا ہے۔۔اﷲ ہر ایک چیز کا خالق ہے۔اور اس دعوٰی کی یہ دلیل دی ہے۔کہ اﷲ اپنی ذات میں بے ہمتا۔اپنی صفات میں یکتا۔اور افعال میں وہ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ ہے۔اور یہ تمام معانی اَلْوَاحِدُ کے ہیں۔جب یہ لفظ اﷲ تعالیٰ کی نسبت بولا جاوے اور وہ سب پر حکمران و متصرّف ہے اور سب کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور یہ معانیُ کے ہیں۔جب حضرت حق سبحانہ، و تعالیٰ پر اسکا اطلاق ہو۔آریہ سماج بھی اﷲ تعالیٰ کو ان معنی میں مانتے ہیں گو نتیجہ میں غلطی کرتے ہیں۔کیونکہ ان کے یہاں اﷲ تعالیٰ ہی کی ذات پاک انوپیم بست۔چت۔آنند ہے۔اگرچہ عام ہنود بُت پرستی کے باعث ایک کا کلمہ زبان پر کم لاتے ہیں کیونکہ عام طور پر لوگ جب وزن کرتے ہیں۔اوّل اور ایک کے بدلہ میں تو پنجاب میں برکت برکت کہتے ہیں۔دوسری بار دُوآ۔دُو آ غالباً تمام ہندوستان میں یہی طرز ہو گا۔اور کے بدلہ اس کے ہم معنی لفظ برہم۔پرمیشر۔اَحْکَمُ الحاکِمِیْن۔رَبُّ الْعَالَمِیْن کا نام لیتے ہیں۔اب کا دعوٰی جس مسلّم بات پر مبنی ہے وہ کالفظ ہے کیونکہ وہ ہر ایک چیز کا خالق نہ ہو تو کچھ چیزیں اس کی خلق سے باہر بھی ہوں گی۔اور جو اشیاء خلق سے باہر ہوں گی۔بہر حال وہ چیزیں ضرور کسی نہ کسی پہلو میں اﷲ تعالیٰ کی شریک ہی ہوں گی۔جیسے آریہ کہتے ہیں کہ تمام ارواح حتٰی کہ کیڑے مکوڑے بلکہ درختوں کی روحیں بھی خدا کی بنائی ہوئی نہیں۔مادۂِ عالم اﷲ تعالیٰ کا بنایا ہوا نہیں۔زمانہ اکاش بھی خدا کا بنایا ہوا نہیں وغیرہ۔تو یہ سب چیزیں بھی غیر مخلوق۔دائمی اپنی ہستی میں خدا کی شریک ہوئیں۔پھر یہ چیزیں نہ اپنی ذات میں خدا کی محتاج۔نہ اپنے خواص میں۔نہ اپنے عادات میں۔اور نہ اپنے افعال میں خدا کی دست نگر۔