حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 39

پڑتی ہے کہ جنگ کی جاوے اور بہت سی بیش قیمت جانوں کو بچانے کے واسطے کچھ جانیں قربان کر دی جاتی ہیں۔مَوت سے انسان بچ سکتا تو ہے نہیں۔پھر ذِلّت کی موت کیوں اختیار کی جاوے۔ہر ایک قسم کا سُکھ اور نیکی اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔اسکے سوا کسی دوسرے میں طاقت نہیں ہے کہ سُکھ دے سکے۔خدا تعالیٰ رحمن ہے اُس نے سُکھ کے سامان ہاتھ پاؤں آنکھ ناک چہرہ سب اعضاء اور آرام دہ اشیاء اپنے فضل سے مہیا کئے ہیں۔قسم قسم کے لباس۔پھل۔پھول۔عقل۔قوّت ادراک وغیرہ، یہ سب سُکھ کی چیزیں اﷲ تعالیٰ کے فضل ہی سے حاصل ہوتی ہیں لیکن دُکھ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔جب وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور انکو بے محل استعمال کرتا ہے تو دُکھ پاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات ہرگز ظالم نہیں ہے۔ کے یہ معنے ہیں کہ گناہوں کی سزا اور نیکیوں کا ثواب اﷲ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔اگر یہ اعتراض ہو کہ دُکھ کا سر چشمہ کیوں خدا تعالیٰ کو کہا گیا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی بدکاری کی وجہ سے اس کا دُکھ دینے والا اﷲ تعالیٰ ہی ہے۔اسی لئے دُکھ کو بھی اُسی کی طرف منسوب کیا گیا۔مثلاً ایک قیدی جو جیل خانہ میں جاتا ہے تو گورنمنٹ کے ہی حکم سے جاتا ہے اور گورنمنٹ اُسے اسکے بداعمال کی پاداش میں جیل خانہ بھیجتی ہے۔اسی طرح بڑے بڑے منصب جو لوگوں کو ملتے ہیں وہ بھی گورنمنٹ سے ہی ملتے ہیں۔غرضیکہ گورنمنٹ ہی کی عنایات سے ایک شخص مَوردِ انعام ہوتا ہے اور گورنمنٹ کی ہی خلاف ورزی سے مَوردِعذاب ہوتا ہے۔لیکن مَوردِ غذاب ہونے کی ایک وجہ ہوتی ہے جو کہ نافرمانی ہے اور مَوردِ انعام ہوتے کی بہت راہیں ہیں۔کبھی انسان اپنی لیاقت سے۔کبھی ذاتی اور خاندانی و جاہت سے۔کبھی حُسنِ خدِمات سے اور کبھی کسی مُقرّب کی سفارش سے مَوردِ انعام ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر مَیں چوروں یا ڈاکوؤں کے گھر پیدا ہوتا۔تو باوجود اس کوشش اور محنت کے جو مَیں نے آج تک کی ہے۔اس موجودہ ترقی پر نہ پہنچ سکتا۔تم معلوم کر سکتے ہو کہ کس قدر رکاوٹیں درمیان میں تھیں۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل ہی تھا کہ اس نے اس مقام تک پہنچایا ہوا ہے۔: اﷲ تعالیٰ کی گواہی دو طرح سے ہوتی ہے۔ایک تو اسطرح کہ وقت پر ان تمام پیشگوئیوں کو پورا کر دیا۔جو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نُصرت کر کے اور آپؐ کے دشمنوں کو ہلاک کر کے اور آپؐ کی کامیابی میں ہر ایک روک کو دُور کر کے گواہی دیدی کہ یہ ہمارا بھیجا ہوا ہے۔دونوں فریق اﷲ تعالیٰ ہی کی مخلوق تھے۔اور دونوں کے اعمال سے وہ خوب واقف تھا جو سچّا تھا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے اسے فتح دیدی اور نیز اچھے