حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 38
: بعض لوگ بندوں سے ایسے ڈرتے ہیں۔جیسے خدا سے ڈرنا چاہیئے۔فرماتا ہے بندوں سے کیا ڈر۔جہاں آدمی ہو۔جس حال میں ہو۔موت تو اپنے وقت پر اپنا کام کرے گی ہمارے طبیب استاد تھے۔ایک پہلوان کو دیکھا۔ہیضہ ہے۔مگر اسے کہا۔تمہیں بدہضمی ہے۔تاکہ دل شکستہ نہ ہو اُس نے کہا بدہضمی کی کیا مجال۔ایک مگدر اُٹھایا کہ اسے پھیر کر کھانا ہضم کرے۔پھیرتے ہی راہیٔ عدم ہوا۔بُرْجٌ:چونکہ بُرج گول ہوتا ہے۔اسی لئے اس کو بُرج کہتے ہیں ورنہ بُرج کے معنے ستارے کے ہیں آتش بازی کے غُباروں کو اِسی لئے بُرج کہتے ہیں کہ وہ اُوپر جا کر ستاروں کی مانند ہو جاتے ہیں۔ بہت لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ دوسری جگہ مگر انہوں نے سمجھا نہیں۔جزا و سزا جو انسانی اعمال کی پاداش ہے۔بعض دیگر مالحِ الہٰیہ بھی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) تم جہاں ہو گے تُم کو موت گھیر لے گی اگرچہ تم مستحکم بُرجوں میں ہو گے! اور اگر انہیں کوئی سُکھ مِل جائے تو کہتے ہیں یہ خُدا کی طرف سے ہے۔اور اگر کوئی دُکھ پہنچے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔تُو کہہ سب اﷲ کی طرف سے ہے۔پس کیا ہوا ان لوگوں کو کہ بات کو نہیں سمجھتے۔اس آیت میں حقیقت واقعیہ اور سچّائی کا کامل اظہار اور جناب الہٰی نے فرمایا ہے جو لوگ دینی اور قومی لڑائیوں سے سُستی اور غفلت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ چند روزہ زندگی تو گزارنے دو۔اُنکو کہا کہ آخر تم نے مرنا ہے۔پھر اُنکی نافہمی کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اگر انکو سُکھ پہنچے تو بول اُٹھتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں سے مِل گیا اور اگر انہیں دُکھ پہنچے تو پکار اُٹھتے ہیں کہ دُکھ تیرے ( نبی کریم سے) سبب سے پہنچا۔تُو کہہ دے کہ دُکھ اور سُکھ تو اﷲ تعالیٰ سے پہنچتا ہے۔یہ نادان بات کی تہہ کو نہیں پہنچتے۔(نُور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۱۔۷۲) جہاں تم ہو۔تم کو موت پا لے گی۔خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔اگر اُنکو کچھ سُکھ اور نیکی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر دُکھ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے تُو کہہ دے کہ سُکھ اور دُکھ سب ہی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ وہ ہی بھیجتا ہے۔ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ بات کو نہیں سمجھتے۔بات یہ ہے کہ جو سُکھ اور نیکی پہنچتی ہے۔اُس کا سر چشمہ تو اﷲ تعالیٰ کی پاک ذات ہے اور جو دُکھ پہنچتا ہے اُسکا سر چشمہ تیرا اپنا ہی نفس ہے اور ہم نے تم کو لوگوں کی طرف پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اس بات پر خدا کی گواہی کافی ہے۔جنگوں کی فلاسفی سے تم آگاہ ہو کہ دین آبرو۔جان اور مال کی حفاظت کے واسطے اس قسم کی ضرورت