حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 2

صحابہؓ کو نصیحت کی کہ مصر کے قبطیوں کا خیال رکھنا۔وہ تمہارے رشتہ دار ہیں کیونکہ حضرت اسماعیل ؑ کی ماں مصرکی تھی۔پھر حضرت نبی کریمؐ جب قربانی کرتے تو خدیجہؓ کی سہیلوں کے ہاں بھی گوشت بھجواتے۔رحموں کا بہت لحاظ رکھو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء)  ؔ: مِنْؔ کے سمجھنے کیلئے قرآن کریم میں جا بجا ہدایت نامے موجود ہیں۔غور کروخَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ (فاطر : ۱۲) خَلَقَلَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (روم : ۲۲) (نور الدّین (ایڈیشن سوم) صفحہ۱۱۱) یہ ایک آیت شریفہ ہے جس سے ایک سورۃ کا ابتداء ہوتا اور(نکاح کے) خطبوں کے وقت اسکا پڑھا جانا مسلمانوں میں مروّج ہے وہ اس آیت کو ضرور پڑھتے ہیں۔وجہ یہ کہ ساری سورۃ کی طرف گویا متوجّہ کیا گیا ہے۔جس میں میاں بیوی کے حقوق کوبیان کیا گیا ہے اور تفاء ل کے طور پر اسکی ابتداء کو پڑھتے ہیں تاکہ سعادت مند لوگ ایسے تعلقات پیدا کرنے سے پہلے اور بعد ان امور پر نگاہ کر لیا کریں جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں۔وہ تعلّق جو میاں بیوی میں پیدا ہوا ہے بظاہر وہ ایک آن کی بات ہوتی ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی لڑکی دی۔اور دوسری کہتا ہے مَیں نے لی۔بظاہر یہ ایک سیکنڈ کی بات ہے مگر اس ایک بات سے ساری عمر کیلئے تعلقات کو وابستہ کیا جاتا ہے اور عظیم الشّان ذمّہ داریوں اور جواب دہیوں کا جؤا میاں بیوی کی گردن پر رکھا جاتا ہے۔اس لئے اس سورۃ کویٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ سے شروع کیا ہے۔کوئی اس میں مخصوص نہیں ساری مخلوق کو مخاطب کیا ہے۔مومنؔ۔مقربؔ۔مخلصؔ۔اصحاب الیمینؔ۔غرض کوئی ہو کسی کو الگ نہیں کیا بلکہ یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ فرمایا۔النَّاسُ جواُنسؔ سے تعلّق رکھتا ہے وہ انسان ہے۔انسان جب اُنس سے تعلّق رکھتا ہے تو سارے اُنسوں کا سر چشمہ میاں بیوی کا تعلّق اور نکاح کا اُنس ہے اس کے ساتھ اگر ایک اجنبی لڑکی پر فرائض کا بوجھ رکھا گیا ہے تو اجنبی لڑکے پر بھی اس کی ذمّہ داریوں کا ایک بوجھ رکھا گیا اس لئے اس تعلق میں ہاں نازک تعلّق میں جو بہت سی نئی ذمّہ داریوں اور فرائض کو پیدا کرتا ہے کامل اُنس کی ضرورت ہے جس کے بغیر اس بوجھ کا اُٹھانا بہت ہی ناگوار اور تلخ ہو جاتا ہے لیکن جب وہ کامل اُنس ہو تو رحمت اور فضل انسان کے شامِل حال ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔غرض اس تعلّق کی ابتدا اُنس سے ہونی چاہیئے تاکہ دو اجنبی وجود متّحِد فِی الّاِرَادت ہو جائیں اس لئییٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ کہہ کر شروع فرمایا اور دوسری آیت یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْسے شروع ہوتی ہے۔لوگو! تقوٰی اختیار کرو۔تقوٰی عظیم الشّان نعمت اور فضل ہے جسے ملے۔انسان اپنی ضروریاتِ زندگی میں کیسا مضطرب اور بیقرار