حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 397
۴۴۔ : دیکھئے بادشاہ نے بھی اِنِّیْ اَرٰیہی کہا ہے۔فِی الْمَنَامِ کا ذکر نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) : ۱ر زانی کے دنوں میں کیا سات ہی گائیں موٹی ہوتی ہیں؟ نمونہ تھا اسی طرح دجّال۔نبی کریمؐ کو اس قوم دجّال کا ایک نمونہ دکھایا گیا۔دومؔ۔اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی رؤیا بھی سچّی نکل آتی ہے۔فاسق کی بھی۔بچّے کی بھی۔(تشحیذالاذھان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۰) ۴۵۔ : پراگندہ خیالات۔یہاں یہ نہیں کہا کہ ہم اس خواب کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتے۔بلکہ الٹا اسی کو بے وقوف بنایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا والے اپنی کبریائی کے باعث اپنی لاعلمی کو تسلیم نہیں کرتے۔بعض آدمی سوال کے سُننے سے پیشتر ہی جواب کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔دنیا پرست انسان اپنی واقفیت وسیع ثابت کرنے کیلئے کسی کا لحظ بھی نہیں کرتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء)