حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 386
۵۔ : میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اس کا نام خواب رکھتے ہیں۔مگر حضرت یوسفؑ نے اس کو دیکھنا ہی فرمایا اور یہی اصطلاح صحیح ہے۔وہ بھی ایک قسم کی بیداری ہوتی ہے۔جس میں دوسرے شریک نہیں ہو سکتے۔: میرے سبب سے وہ سجدہ میں گرے ہوئے ہیں۔کوئی ایسا امر واقعہ ہوا ہے کہ وہ سب کے سب سر بسجود ہو رہے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) : یہاں خواب کا ذکر نہیں اسی طرح نبی کریمؐ نے جو دجال یا جوج ماجوج وغیرہ کے بارے میںرَأَیْتُ فرمایا اسے رؤیا یا کشف کیوں نہیں قرار دیتے ؟ (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۹) ۶۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت یعقوبؑ تعبیر رؤیا کی سمجھ گئے تھے۔فرمایا۔تیرے بھائی تو تیرا مقابلہ کریں گے۔اور یہ ان کا شیطانی فعل ہو گا۔کیونکہ شیطان ہی آپس میں جنگ کروا دیتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء)