حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 385
سُوْرَۃُ یُوْسُفَ کَکِّیَّۃٌ ۲۔ : اَنَا اﷲُ ارٰی۔میں اﷲ دیکھتا ہوں کہ جو کچھ تم حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ کرتے ہو۔جس طرح تم اس رسول کے ساتھ برتاؤ کرتے ہو۔اسی طرح یوسفؑ کے ساتھ اسکے بھائیوں نے کیا تھا۔تمہارا بھی اس رسول کے سامنے وہی حال ہو گا جو یوسفؑ کے سامنے یوسفؑ کے بھائیوں کا ہوا تھا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھئی تھے جن میں سے ایک بنیامین ان سے بھی عمر میں چھوٹے تھے اور یہی سگے بھائی یوسف علیہ السلام کے تھے۔باقی بھائیوں میں سے جو سوتیلے تھے۔ایک ان کے خیر خواہ تھے۔باقی نو مخالف تھے۔ایسا ہی رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے مخالف بھیتِسْعَۃَ رَھْطٍ نو گروہ تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۳۔ : کھل کر سنانے والی زبان میں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۹) ۴۔ قَصَصِ: بیان یاد رکھنا چاہیئے کہ یہاں لفظ قَصَصؔ قؔپرمتحہ (زَبَر) کے ساتھ ہے۔یہ مصدر ہے اور اس کے معنے ہیں بیان کرنا۔بعض لوگ غلطی سے اس کے معنے کرتے ہیں۔قصّے۔قصّہ اور لفظ ہے جو قؔ کی زِیر کے ساتھ ہے اور اس کی جمع ہیقَصَصْ (قؔ کے نیچے زیر کے ساتھ) نبیوں میں سے حضرت رسول کریمؐ۔حضرت نوحؑ۔حضرت موسٰیؑ۔حضرت ابراہیم علیھم السلام و البرکات بڑے اولو العزم لوگ ہوئے ہیں۔اور ان کا معاملہ حضرت یوسف علیہ السلام سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا معاملہ تو صرف بھائیوں یا ایک عورت کے ساتھ ہوا تھا اور وہاں تمام اقوام کی مخالفت کا بہت خوفناک مقابلہ پیش تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۹ء)