حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 351
قاعدہ ہے کہ فعل سے فاعل مشتق ہو جاتا ہے۔پارہ ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل میں پڑھیئے کہفَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَدْھُمَا (بنی اسرائیل :۲۴) حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم یتیم تھے۔پس وہ مخاطب نہیں ہیں۔اگر یہاںمِمَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ آیا ہے تو اس سے بھی نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی خصوصیت ثابت ہو گی۔کیونکہ سورۂ اعراف میں ہے۔اتَّبِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ (اعراف:۴) : اے مخاطب نہ ہو شک کرنے والوں سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ ء نیز تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹) ۹۹۔ : عرب میں بھی ایک امن کی بستیحَرَمًا اٰمِنًا (قصص:۵۸)اٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ (قریش:۵) اس کو سمجھایا ہے کہ ایمان لائے۔یونس کی قوم کی طرح فائدہ اٹھائے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۱۰۰۔ : اگر اﷲ چاہتا تو انسان کے تمام ایسے قوٰی بنا دیتا۔کہ ان پر فعل یا ترک کا کوئی دخل و تصرّف نہ ہوتا۔اور اس طرح نہ ماننا ان کی فطرت میں ہی نہ رہتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۱۰۱۔