حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 347

میں نے اس وقت لُغات کی کتاب کو دیکھا تو معلوم ہوا۔قِبْلَۃً کے معنی مُتَقَابِلَۃً ہیں۔پس میں نے اسے بتایا۔ان کو یہ حکم ہوا کہ اپنے گھروں کے دروازے ایک دوسرے کے مقابلہ پر بناؤ تاکہ خطرہ کے وقت ایک دوسرے کے کام آ سکو۔وہ وقت تو یوں گزر گیا۔پھر خدا نے میری معرفت بڑھائی اور میں نے توریت میں پڑھا کہ حکم دیا گیا کہ تم قربانی کے خون کے نشان اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر لگا دو تاکہ عذاب ے فرشتے ان کو پہچان لیں۔میں نے کہا کیا فرشتے بغیر اس کے پہچان نہ سکتے تھے؟ یہ تو اس پر اعتراض کیا اور معنے یہ کئے کہ اب تم اپنے گھروں کو قربان گاہ بنا لو اور خون کے نشان لگنے سے ان کے گھر امن کے گھر بن گئے۔اس لئے بھی ان کو قبلہ کہا گیا۔چوتھے معنی یہ ہیں کہ نمازیں بھی اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹) قبلۂ یہود وہ جگہ تھی جہاں وہ قربانی کرتے تھے اور فسح کی رسم ادا کرتے اور عبادت کرتے تھے۔دیکھو میزان الحق صفحہ۲۲۔پھر یروشلم یہودیوں کا قربان گاہ اور عبادت گاہ تھا اور خدائے تعالیٰ وہاں اپنے تئیں ایس ظاہر کرتا تھا کہ گویا اس جگہ میں رہتا تھا۔انجیل لوگ ۲ باب ۴۱ سے ۴۲ تک۔اُس (مسیح)کے ماں باپ ہر برس عید فسح میں یروشلم کو جاتے تھے اور جب وہ بارہ برس کا ہوا۔وے عید فسح کے دستور پر یروشلم کو گئے۔خروج ۳۴ باب ۲۳۔اور استثناء ۱۶ باب ۱۶ میں بھی ایسی ہی باتیں لکھی ہیں۔اب اس سے واضح ہو گیا کہ یہ نشانات اور یہ حقیقت قبلۂ یہود کی تھی۔