حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 345
اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ جب سے صاف ظاہر ہے کہ آپّ کو جتھّے کی پرواہ نہ تھی۔تیسری باتوَ اﷲُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (مائدہ:۶۸)کا نزول ہے جس پر آپؐ نے پہرہ دینے سے منع کر دیا۔ایسا ہی اس رکوع میں حضرت نوح ؑکے حالات پر غور کرو کہ اکیلا شخص پکارتا ہے (یونس:۷۲)۔کیا اس کلام کو پڑھ کر یہ شک بھی رہ سکتا ہے کہ نبیوں کو جتھّوں کی پرواہ ہوتی ہے۔پھر حضرت موسٰی کے واقعات پر غور کرو کہ جب آگے دریائے نیل تھا اور پیچھے فرعون کی فوج۔اس وقت اصحاب موسٰیؑ نے کہا (شعراء:۶۲) مگر حضرت موسٰیؑ کس اطمینان سے کہتے ہیں کہ (شعراء:۶۳) پس مکّہ شریف میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا صبر اس لئے تھا کہ یہ لوگ کسی طرح سمجھ جاویں۔: بڑا لگتا ہے۔فَعُلَ کا وزن ایسے ہی معنوں کے لئے مخصوص ہے۔: چھُپ چھُپ کر نہ کرو بلکہ کھلم کھلا مخالفت کرو۔کُھلے بندوں زور لگاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹) میرا بھروسہ خدا پر ہے۔تم سب جمع ہو کر جو حیلہ چاہو کر لو۔اور ایسا کرو کہ تم کو اپنی کامیابی میں کوئی شک و شبہ نہ رہے اور کوئی مفر میرے لئے نہ رہنے دو۔پھر دیکھ لو کہ تم ناکام اور مَیں بامراد ہوتا ہوں کہ نہیں۔پس ایسے ایسے موقعوں پر خدا تعالیٰ اپنے مُرسلوں کے دشمنوں کو بے دست و پا کر کے بتلاتا ہے کہ دیکھو۔میں اس کا محافظ ہوں کہ نہیں اور یہ ہمارا مُرسل ہے کہ نہیں۔عرضیکہ انبیاء کی بعثت میں ایک سرّ ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے الہٰی تصرّف اور اقتدار کا پتہ لگتا ہے۔(الحکم ۱۰؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲) ۷۴۔ : پس نبیوں کو تو اپنے مولیٰ کا بھروسہ ہوتا ہے۔حضرت نوحؑ کی ایک دُعا (نوح:۲۷) کام کر گئی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹) ۷۶۔