حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 337

: جن باتوں کے لئے ہم نے تیرے لئے ان مخالفین کو وعید کیا وہ یا تو دکھادیں گے یا ہم تجھے وفات دے دیں گے۔ایک اور بات ہے وعدہ۔اس میں تین شان ہیں۔کسی لڑکے کو ہم نے کہا کہ اگر تم فلاں عمر میں پاس ہو جاؤ تو ہم تمہیں لطیف کوٹ دیں گے۔اب اس کے پاس ہونے میں اگر ہم بجائے کو، کے یہ کہہ دیں کہ ایم۔اے کی تعلیم تک کے اخراجات اپنے ذمّہ لیتے ہیں تو اسے وعدہ کا اِخلاف نہیں کہیں گے۔وعدہ کی پیشگوئیاں ترقی کے رنگ میں آ جاتی ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ اسے کہہ دے کہ ایم۔اے تک کیا پس تم تو اب ہمارے ہو گئے اور ہم تمہارے۔یہ اعلیٰ درجہ کا انعام ہے۔جس کے ساتھ کوئی انعام لگّانہیں کھاسکتا۔تیسری بات یہ ہے کہ اس چیز کے بدلہ میں کوئی اور چیز دے دی جائے مثلاً کوٹ کا وعدہ ہے۔مگر ضرورت دیکھ کر اسے رضائی و تو شک دیدیں۔صورت میں تو اختلاف ہو گیا مگر نفسِ وعدہ میں اختلاف نہیں ہوا۔ایک اور غلطی ہے کہ پیشگوئیاں معیارِ صداقت ٹھہریں۔دنیا میں پیشگوئی خدا کا قول ہے۔جیسا کہ اس کا قول سچّا۔فعل بھی سچّا ہوتا ہے۔کاستکاروں کو دیکھو کہ جب ایک دفعہ انہوں نے گیہوں کے ایک دانے کے بہت سے دانے ہوتے دیکھے تو پھر بیج بو کر کہہ دیتے ہیں کہ اب ہماری فصل پک جاوے گی۔یہ گویا خدا کے ایک فعل کی بناء پر پیشگوئی کی ہے۔اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں بجے کی گاڑی پر آ جاویں گے۔یاہم ایف اے بی اے کر لیں گے تو یہ ایک طرح کی پیشگوئیاں ہیں۔مگر ممکن ہے جیسا کہ امید کی گئی ہے۔یہ بات پوری نہ ہو۔کوئی درمیانی حادثہ پیش آ جاوے۔تاہم کہنے والے کو جھوٹا نہ کہیں گے ورنہ بعض دفعہ ان درمیان میں پیش آنے والی باتوں کی بناء پر لوگ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں۔کیونکہ ہمیشہ کثرت کی بناء پر فیصلہ ہوتا ہے اور کثرت پر اعتبار کیا جاتا ہے۔پس معیارِ صداقت کثرت و قلّت کی بناء پر ہے۔دیکھو لوگ مجھے طبیب اور تجربہ کار سمجھتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ سب بیمار میرے ہاتھ سے شفا پا گئے۔جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر لوگ کیوں میری طرف رجوع کرتے ہیں۔کثرت کی بناء پر۔پس تمام پیشگوئیوں کا انہی الفاظ میں پورا ہونا ضروری نہیں۔اعتراض کیا جاتا ہے کہ قول میں کیوں اختلاف ہوا۔ہم کہتے ہیں کہ فعل الہٰی میں کیوں اختلاف ہوتا ہے اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات تنزّل ترقیات کیلئے ہوتا ہیبَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ کے معنی اس تشریح سے سمجھ میں آجائیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء) : یہاں تک ہم رُوح قبض کر لیں گے تیری۔(تشحیذالاذھان جلد۸ نمبر۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۵۸) ۴۸۔