حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 335
مسٔلہ کو خوب کھولا ہے۔ان دو ثبوتوں کو پیش کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ اس سے ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔مگر ایک اور ثبوت لو وہ یہ کہ قُلْ (بقرۃ:۲۴) اس کی مثل ایک سورت تو بنا لو اگر ایک شخص واحد کوئی کلام بنا سکتا ہے۔تو کئی شخصوں کی مجموعی قوّت ضرور بنا سکتی ہے۔جب ایسا نہیں کر سکتے تو صاف ثابت ہوا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ولنعم ما قیل ؎ بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نورِ حق کا اس پہ آساں ہے (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) یہ قرآن اﷲ کے سوا اور کا بنایا ہوا نہیں۔لیکن تصدیق ہے اس کتاب کی جو اس کے آگے ہے۔عیسائی علماء نے عدم فہمیٔ قرآن سے تصدیق و مصدّق کو جو قرآن میں جا بجا آیا ہے کچھ اور سمجھ کر خامہ فرسائی کی ہے۔اصل مطلب یہ ہے کہ موسٰیؑ نے پیشینگوئی کی کہ میرے مثل ایک نبی پیدا ہو گا۔اور خدا کا کلام اس کے مُنہ میں ڈالا جائے گا۔اور یہ خبر اپنے وقوع کی محتاج تھی۔ضرور تھا کہ موسٰیؑ کی پیشینگوئی کی تصدیق ہو گئی۔پس تصدیق و مصدّق کے لفظ کے یہی معنی ہیں۔اب اگر قرآن کو سچّا نہ مانیں اور آنحضرت ؐ کو حضرت موسٰیؑ کا مثیل ہونا تسلیم نہ کریں۔بایں کہ آپؐ نے یہ دعوٰی بڑے زور سے کیا اور خدا نے انہیں کامیاب کیا۔تو کتبِ مقدّسہ کی اقدم و اعظم کتاب توریت کی تکذیب لازم آتی ہے۔آگے اختیار ہے۔(فصل الخطاب (ایڈیشن دوم) حصّہ دوم صفحہ ۹۲) یاد کرو۔دونوں شہر سے نکلے۔مگر مظفر و منصور کون ہا اور ہلاک کون ہوا؟ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۴۲۔