حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 334 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 334

۳۸۔  اﷲ تعالیٰ نے اس سورۃ میں نبی کریمؐ کی نبوّت کے بارے میں ثبوت دیئے ہیں۔پہلے تو فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ یہ بے کس و بے بس ہے۔ہرگز نہیں بلکہ اس کا بھیجنے والا عرش کا مالک ہے۔درمیان میں ایک بات آ گئی کہ ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ یہ راست باز ہے یا منافقانہ طور سے کہتا ہے۔واقعی یہ سوال اہم ہے کیونکہ ہر کارخانے میں ایک کارخانہ جھوٹ کا بھی ہوتا ہے اور مصنوعی اور اصلی شئے میں تمیز کرنے سے بعض عقلیں عاجزآ جاتی ہیں۔ایک دفعہ ہم نے ایک رقعہ لکھا اور ایک اس قسم کے مدّعی سے کہا۔اس کا جعل بنا دو۔ہم نے اپنے رقعہ میں ایک باریک نقطہ لگا دیا۔جب وہ جعل بنا کر لایا تو بعینہٖ وہ نقطہ اس میں بھی تھا اور یہ تمیز نہ ہو سکتی تھی کہ اصل کون سا ہے۔راست بازوں کی پہچان کے متعلق ہم کو تو بہت سی آسانیاں ہیں کیونکہ اس سے پہلے کئی نبی اور صادق ہو چکے ہیں۔چھوٹے اور سچّے کی تمیز کے لئے کئی معیار ہیں ان میں سے ایک کا بیان فرماتا ہے۔ایک تو یہ کہ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ : اگلی کتب میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ اس پر صادق آتی ہیں۔حضرت نبی ٔ کریمؐکے بارے میں ایک پیشگوئی جو استثناء باب ۱۸ میں ہے۔جس کی تفصیل’’ فصل الخطاب‘‘ میں ہے پھر انجیل میں خدا کی بادشاہت کا بار بار ذکر ہے جس سے مراد اسلامؔ ہے۔کیونکہ مسیحؑ کو حکومت حاصل نہیں ہوئی۔: بائیبل میں بہت سے مسئلے ہیں مگر بغیر دلیل اور مختصر۔چنانچہ عیسٰیؑ سے ایک گروہ یہود نے ( جو مَنکرِ قیامت ہیں اور فریسی کہلاتے ہیں) کسی نے قیامت کی نسبت سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تورات میں لکھا ہے کہ میں ابراہیم اور اسحاق کا خدا ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) پس اگر وہ تھے نہیں تو’’ خدا ہوں‘‘ کیسے ٹھہرا۔مگر اب قرآن شریف کو دیکھو کہ اس نے قیامت و حشر کے دلائل اور حالات کس تفصیل سے دیئے ہیں۔ایسا ہی جنابِ الہٰی کی ذات کے متعلق تورات میں اختصار ہے اور خدا کے مجسّم ہونے کی نسبت کچھ اس قسم کا بیان ہے کہ اسکی غلط فہمی سے مسیح ؑ کو خدا بنا دیا ہے مگر خدا نے قرآن شریف میں اس