حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 332
: جس قسم کا کوئی گناہ کرتا ہے اسی قسم کی سزا پاتا ہے۔یعنی جس غرض کیلئے گناہ کرتا ہے وہ غرض حاصل نہیں ہوتی۔مثلاً کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اپنے لباس میں۔اپنی زبان میں اپنے تعلّقات میں ایک شان پیدا کر لیتا ہے۔چونکہ یہ لوگ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اس لئے تمام فہیم لوگ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اسی طرح چور حصولِ مال کیلئے چوری کرتا ہے وہ ہمیشہ مفلس و نادار اور غریب رہتا ہے۔ایک چور کا ذکر ہے کہ اس نے کسی عورت کا زیور چُرا لیا۔عورت نے دیکھ لیا۔کچھ مدّت کے بعد وہی چور جس نے اس عورت کا زیور چُرا لیا تھا۔اس کوچہ میں گزرا تو اس عورت نے کہا۔دیکھو مجھے خدا نے وہی زیور پھر دے دیا مگر تم ویسے ہی بھوکوں مرتے ہو۔اس پر وہ تائب ہوا۔اسی طرح قمار بازوں کا حال ہے۔یہی انجام عیاشوں اور شہوت پرستوں کا ہوتا ہے کہ وہ اس لذّت سے ہمیشہ کیلئے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ ان میں آتشک۔سوزاک۔نامردی پیدا ہو جاتی ہے۔شرابی اور افیونی بھی آرام نہیں پاتے۔جو لوگ نکمّے بیٹھتے ہیں آخر انہیں ذلّت کے کام کرنے پڑتے ہیں یا ذلیل ہونا پڑتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) ۲۹۔ : آپس میں ان کا جھگڑا کرا دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) ۳۱۔ : ظاہر پائے گا۔جیسییَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ (طارق:۱۰) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء)