حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 320
۱۲۳۔ : مقابلہ کرو۔: شیخ ابن عربی نے لکھا ہے۔سب سے نزدیکی کافر تو ہمارا نفس ہے جو اﷲ کی بہت سی نافرمانیاں کرتا ہے۔پس سب سے پہلے مقابلہ اس سے کرو۔: اس کی تفسیر میں ہے اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ(فتح: ۳۰) مراد اس سے مضبوطی ہے۔یعنی کفّار کا اثر قبول نہ کرو۔ہماری زبان میں غلیظؔ کے معنے بُرے لئے گئے ہیں۔مگر عربی میں یہ بات نہیں چنانچہ اَکَمَۃٌ عَلِیْظَۃٌ کے معنے ہیں مضبوط ٹیلہ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۹ء) ۱۲۴،۱۲۵۔ اور جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے۔کوئی تو ان میں سے کہتا ہے۔بتاؤ تو اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا۔جو تو مومن ہیں ان کے ایمان کو تو وہ سورت بڑھا دیتی ہے اور وہ خوشیاں مناتے ہیں اور جن کے دلوں میں زنگ ہے وہ سورت انکی پلیدی اور بدباطنی کو بھی بدباطنی کے ساتھ ملا کر بڑھاتی ہے اور وہ کفر میں ہی مرتے ہیں۔عمدہ عمدہ تندرستوں کے کھانے بیماروں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور موسم بہار کی عمدہ ہوا بعض بیماروں میں ضرر کا موجب ہے۔عمدہ عمدہ تندرستوں کے کھانے بیماروں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور موسم بہار کی عمدہ ہوا بعض بیماروں میں ضرر کا موجب ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ۸۰) ۱۲۶۔