حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 316
قرآن شریف چونکہ اﷲ علیم و حکیم کی کتاب ہے۔اس لئے وہ انسانی ضرورتوں اور اس کی مجبوریوں کا پورا علم اور فلسفہ اپنے اندر رکھتی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک صُحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے اور انسان چونکہ متمدّن ہے۔بعض اوقات اس کو مشکلات پیش آ جاتے ہیں اور وہ ہر دم اس سرکار میں حاضر رہنے سے معذور ہو سکتا ہے۔اس لئے معمولی دُوری کو انقطاعِ کُلّی کا موجب نہیں ہوتا چاہیئے۔جسقدر دُور ہوتا جاتا ہے۔اسی قدر سُستی اور کاہلی پیدا ہو سکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور کثرتِ استغفار نہ ہو۔اس لئے انقطاعِ کُلّی سے بچانے کیلئے حکم دیا ہے۔۔یعنی اہلِ مدینہ اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کا یہ کبھی حال نہ ہو کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کسی خاص کام میں توجّہ کریں تو یہ اپنی جگہ سمجھیں یا نہ سمجھیں۔اسکی خلاف ورزی نہ کریں۔انبیاء و مرسلین کے کام اﷲ تعالیٰ کے اشارے اور ایماء کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان میں باریک در باریک اسرار اور غوامض ہوتے ہیں۔موٹی عقل سے دیکھنے والوں کی نظر میں ممکن ہے کہ ایک فعل مفید معلوم نہ ہو لیکن دراصل اس میں مآل کار قوم اور ملک کیلئے ہزاروں ہزار مفاد اور بہتریاں ہوتی ہیں۔تو یہ اس کی حماقت ہو گی اگر اس پر اعتراض کر دے۔نادان انسان ہر فعل کی علّت غائی اور ضرورت کو نہیں سمجھتا اور نہ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہر ہر ایک فعل کی علّت غائی ہی سوچتا رہے۔ایک کیکر کے درخت کو جو اس قدر کانٹے لگائے