حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 308

میری طبیعت میں خدا تعالیٰ نے یہ بات رکھ دی ہے۔کہ انسان کے بہت سرے اعمالِ صالح پر نظر ڈالا کرتا ہوں۔کیونکہ خدا نے فرمایا ہے خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحًا وَّ اٰخَرَسَیِّئًا۔پس جب ہم کسی بدی یا بیماری کی تفسیر کرتے ہیں تو یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ کسی کو نشانہ بناویں۔بلکہ اس لئے کھولتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کوئی ایسی تحریک پیدا کر دے کہ ان کے اندر سے وہ بیماری دُور ہو جاوے۔(الحکم ۳۱؍جولائی ۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ) مفراداتِ راغب میں ہے۔۔التَّوْبُ تَرْکُ الذَّنْبِ عَلیٰ اَجْمَلِ الْوُجُوْہِ وَ ھُوَاَبْلَغُ وُجُوْہِ الْاِعْتَذَارِیعنی توبہ کے معنے ہیں۔بہت ہی عمدہ وجہ سے گناہ کو چھوڑ دینا اور اس سیت بڑھ کر عُذر خواہی کی اور کوئی عمدہ راہ نہیں ہو سکتی۔ایک بدکار۔نافرمان جب اپنی غلط کاریوں سے الگ ہو جاوے تو انصاف کا مقتضا ہے کہ اب اس کو بَری ہی کیا جاوے۔مگر محدود العقل۔محدود العلم آدمی دلوں کے اندرونی حالات سے ناواقف اگر کسی کے عُذر کو نہ مانے تو یہ اس کی نادانی ہے۔مگر عَلِیْمٌ بِّذَاتِ الصُّدُوْر جوتہ در تہ کو جانتا ہے۔وہ جب جان لے کہ اب یہ شخص سچّا بدی کا تارک ہو چکا ہے تو پھر توبہ قبول نہ کرنا ناانصافی ہے… ہم خدا کا شُکر کرتے ہیں کہ اسلام کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے انسان کے دل کی سچّی آرزو یعنی مسئلہ توبہ کی تبلیغ کی ہے۔ہر ایک فطرت خطاء اور نسیان کے بعد دِلی جوش سے چاہتی ہے کہ اسکا آقا جس کے حکم کو اس نے توڑا ہے اسکی خطا معاف کر دے اور آئندہ اسے تلافیٔ مافات کا عمدہ موقعہ دے۔قرآن کریم نے انسان کی فطرت کی سچی آرزو کے موافق رحیم و کریم۔تو آب آقا پیش کیا ہے۔تناسخ اور کفارہ کا بیہودہ مسئلہ توبہ کی فلاسفی کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔بعض بیماریوں کو دیکھو بدی سے پیدا ہوتی ہیں۔اور جسمانی طور پر جب انکا علاج کیا جاتا ہے تو وہ بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔پس توبہ روحانی علاج ہے۔روحانی بیماروں کا۔جسمانی سلسلہ سے کاش تم لوگ روحانی سلسلہ کو سمجھو۔(نور الدّین صفحہ ۷۳۔۷۴) ۱۰۳۔