حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 1
سُوْرَۃُ النِّسَآئِ مَدَنِیَّۃٌ ۲۔ اس سورۃ شریفہ میں یہ ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب آرام کی زندگی عطا کرے تو کس طرح بسر کرنی چاہیئے۔مومن لڑائیوں میں انتظامات نہیں کر سکتا۔امن کی حالت میں کرتا ہے اس لئے امن کی زندگی بسر کرنے کے قاعدے و طریقے سکھاتا ہے۔بڑا امن تکبّر چھوڑنے سے پیدا ہوا ہے کہ برائیوں کے تمام شعبے چھوڑ دینے چاہئیں۔شیطان کا پہلا گناہ جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہ بھی یہی ہے کہ اَبیٰ وَاسْتَکْبَرَ (بقرہ:۱۳۵)قومیّت کے خیال کو تقوٰی کی حد کے اندر لانا چاہیئے۔یہاں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔جب تم ایک شخص کی اولاد ہو تو پھر کبریائی کس لئے تقوٰی میں امن پیدا ہوتا ہے اور کبریائی سے فساد۔اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاﷲِ اَتْقَکُمْ۔(حجرات : ۱۹)میں بتایا ہے کہ اﷲ کے نزدیک معزّز و مکرّم صاحبِ تقوٰی ہے نہ کہ اعلیٰ ذات والا۔ دوبارہ حکم تقوٰی کا دیتا ہے کہ اُس اﷲ کے متّقی بنو جس کے حضور تم دعا کیا کرتے ہو۔جس کے در پر جا کر مانگنا ہوا اُس کے حکم کی خلاف ورزی ٹھیک نہیں۔ ؎ انبیاء نے عورتوں کے رشتہ کی یہاں تک قدر کی کہ آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم) نے