حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 297

ہر ایک چیز اپنے نشان سے پہچانی جاتی ہے۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔کسی پر مثلاً غضب آوے تو چہرہ پر اس کا اثر ضرور ظاہر ہوتا ہے۔غرض انسان کے اندر جو کچھ ہو اس کا اثر ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔یہاں منافقوں کا ذکر ہے اس لئے ان کا نشان بتاتا ہے تا تمہیں اپنے نفسوں کے محاسبہ کا موقعہ ملے۔یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ: منافق کے اندر چونکہ پسندیدہ بات کوئی نہیں ہوتی اس لئے وہ تحریکیں بھی ناپسندیدہ امور ہی کی کرتا رہتا ہے۔: چونکہ اسے جزا و سزا کے مسئلہ پر پورا یقین نہیں ہوتا۔اس لئے وہ کُھلے دل خرچ فِیْ سَبِیْلِ اﷲ نہیں کر سکتا۔: پس اس نے ان کو چھوڑ دیا۔اﷲ کسی کو بھُولے۔یہ غلط بات ہے۔خرچ مال بڑھانے سے بڑھتا اور گھٹا نے سے گھٹتا ہے۔ایک ہزار روپیہ روز پر بھی گزارہ ہیں اور ہمارے حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک پیسہ پر انسان آٹھ پہر گزار سکتا ہے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔ایک وزیر اعظم نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے یہاں دو روپے پر امیدواری کے دو ماہ گزارے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ نومبر ۱۹۰۹ء) ۷۲۔   : اور اﷲ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑی ہے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۳۵) قرآن شریف جو  کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے یہ کوئی چھو ٹی سی بات نہیں ہے۔ایک چوکیدار اگر راضی ہے تو گھر والا کتنے گھمنڈ اور ناز میں رہتا ہے اور اگر ایک ڈپٹی انسپکٹر پولیس اس کا حامی ہو تو اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتا ہے