حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 289
: اﷲ کی پاک شریعتوں میں۔خدا ئی حساب چاند کے ساتھ وابستہ ہیں اور دنیاوی حساب آفتاب سے۔دونوں میں کئی دنوں کا فرق پڑ جاتا ہے۔دنیاداروں نے شمسی حساب کو پسند کیا کیونکہ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔اور چاند کے حساب پر چلیں تو تین برس میں ایک ماہ اور چھتیس سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاوے۔اور اس حساب سے تنخواہ لینے والا ملازم بڑے فائدہ میں رہ سکتا ہے۔دینی کام چاند کے حساب پر کرنے میں صوفیاء نے ایک نکتہ لکھا ہے کہ امّت محمّدیہ ہر شمسی مہینے میں اپنی ہر عبادت کرنے کا فخر رکھتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء ) ۳۷۔ : عرب کے مشرکین باہر تجارت کیلئے جاتے تھے دقّت میں پڑتے تھے۔اس لئے وہ کبھی محرّم کو صفر بنا لیتے اور کبھی کچھ۔جس سے لوگوں کو مغالطہ ہوتا۔اور بہت سا فساد پڑ جاتا۔سُود خوروں نے بھی ایک فساد کیا ہے۔کہ لونّد کا مہینہ رکھ لیا ہے اور بارہ کی بجائے تیرہ کا سود لیتے ہیں اور کبھی مہینے کے دن بڑھا لیتے ہیں۔اس بہانے سے کہ حساب پورا ہو جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء نیز تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۷ ) ۳۸،۳۹۔