حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 284
اور مرزا امام الدّین نے ایک مقدمہ کیا جس میں شیخ خدا بخش جج تھے۔میں اس مقدمہ میں گواہ کیا گیا۔ان دنوں ایک شخص مخدوم پیرزادہ ٹنڈوالہ یار علاقہ حيدر آباد سندھ کا رہنے والا علاج کیلئے قادیان میں آیا اور اس نے مجھے نذر کے طور پر آخر ایک سو روپیہ دیا۔اور بااینکہ امام الدّین نظام الدّین نے اس کی دعوت بھی کی تھی مگر قدرتِ الہٰیہ نے ان دونوں کو پتہ نہ لگنے دیا کہ اس مخدوم نے مجھے ایک سو روپیہ دیا ہے۔گواہی کے وقت جب مجھ پر جرح ہونے لگی تو آریہ وکیل نے مجھ پر سوال کیا۔کیا آپ کو اس سال کسی نے یک دفعہ ایک سو روپیہ بھی اس پیشہ طبابت میں دیا ہے؟ میں دل میں حضرت حق سبحانہ، و تعالیٰ کیلئے سجداتِ شکرادا کرتا ہوا بول اُٹھا۔کہ ہاں فلاں مخدوم سندھی نے دیا ہے۔تب ہمارے مخالف ایسے مبہوت ہوئے کہ آئندہ سوالات جرح سے خاموش ہو گئے۔منشاء مخالف کا اس سوال جرح سے اتنا ہی تھا کہ میری حیثیتِ خدا داد کو باطل کرے۔مگر اس داؤ میں خائب و خاسر ہو گیا۔میں نے اس شکریہ میں پچاس روپے مخدوم صاحب کو بذریعہ منی آرڈر واپس کر دیئے۔اب سوچو۔مخدوم کا بیمار ہونا۔اس کو میرا پتہ لگنا اور سو روپیہ مجھے دینا اور اسکے اظہار کا موقعہ ایسے وقت پر ہونا کہ دشمن خاک میں مل جاوے۔کیسا تعجب انگیز ہے؟ اور خدا پرست کے لئے کسی طرح مقام شکر کا ہے؟ حقیقی فلسفہ اور سائنس دانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ امور اتفاقی طور پر نہیں ہوا کرتے۔اس طرح کے واقعات جن کو میں نے اپنے متعلق بیان کیا ہے۔ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں خدا پرست ان کے وقوع سے شکر گزار ہوتے اور سجداتِ شکر کرتے ہیں۔غافلوں، بدمستوں کے سامنے یونہی گزرجاتے ہیں کہ گویا وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔حضرت موسٰی علیہ السلام کا فلق بحر ( دریا کا پھٹ جانا) انفجار العیون ( بارہ چشموں کا