حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 280 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 280

۲۱۔  خدا تعالیٰ نے ہمارے تمام اقوال و افعال بلکہ دنیا کی تمام اشیاء میں مراتب رکھے ہیں۔مراتب کو نگاہ رکھنا بڑا ضروری ہے۔دنیا میں نیکیاں ہیں۔پھر ان سے بڑھ کر اور پھر ان سے بڑھ کر مثلاً فرمایا کہ راستہ میں کوئی کانٹا یا دُکھ دینے والی کوئی چیز ہو تو اس کو الگ کر دو۔یہ ادنیٰ نیکی ہے۔صوفیوں کے نزدیک اماطۃ الاذٰی سے مراد رذائل ہیں جو خدا تک پہنچنے میں روک ہو جاتے ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر ایمان باﷲ و الرسول ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بوڑھے لوگ چھوٹی چیز کی طرف توجہ کرتے ہیں اور بڑی کا خیال نہیں رکھتے مثلاً تہجّد کے لئے اُٹھیں گے۔خواہ صبح کی نماز قضاء ہی ہو جائے۔اس حفظ مراتب نہ کرنے سے نقصان پہنچتا ہے۔اس رکوع میں اﷲ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو خوب کھولا ہے مکّہ والوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کیا اور ایک یہودی سے کہا کہ دیکھو ہم حجاج کی خدمت کرتے ہیں اور مسجد حرام کی مرمت کرتے رہتے ہیں۔کیا ہم محمدیوں سے اچھے نہیں جنہوں نے آکر پھُوٹ ڈال دی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ان کے مقابلہ میں ان مشرکین کے چھوٹے چھوٹے کام کچھ بھی نہیں۔: اس سے پہلے اعظم درجۃً بھی ایک دعوٰی تھا۔اس کا ثبوت دیتا ہے کہ انہیں جنّت اور ابدی نعمتیں ملیں گی پھر کامیاب ہوں گے اور یہ پانی پلانے پر نازاں خائب و خاسر رہیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء ) ۲۵۔ دنیا میں جس قدر کام ہیں دین کے ہوں یا دنیا کے۔ہر ایک کام کیلئے ایک نہ ایک سبب ہوتا ہے اب جو لوگ صرف اس کام پر بھروسہ کرتے ہیں وہ جب ناکام ہوتا ہے۔ان کو بڑا دُکھ ہوتا ہے۔مگر جن کا بھروسہ اﷲ پر ہوتا ہے وہ ہمّت نہیں ہارتے۔اسی لئے مومن ایک دُعا نماز میں پڑھتا رہتا ہے۔جو بقول ایک امام کے واجب ہے۔۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَ الْحُذْنِ وَاعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ۔جب مومن کا اﷲ پر بھروسہ کم ہو تو اُسے متنبہ کرنے کیلئے کسی امر میں بظاہر ناکام رکھتا ہے تا وہ اپنی ایمانی حالت کو درست کر لیں۔