حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 278 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 278

۱۱۔ صحابہ میں کسی عمداً تارک الصلوٰۃ کی نظیر نہیں ملتی۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ جو نماز نہ پڑھتا۔اسے مسلم نہیں سمجھتے تھے اور مسلمان ہونے کا امتیازی نشان بھی یہی قرار دیا گیا۔چنانچہ فرماتا ہے ۱؎ معاہدۂ بیعت مراد ہے۔مرتب ۔یعنی اگر شرک سے توبہ کر لیں نماز قائم کرتے رہیں زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۹ صفحہ ۳۵۹) ۱۲۔ اور اگر وہ عہد کر کے پیچھے اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کفر کے سرداروں سے جنگ کرو ان لوگوں کی قسمیں و سمیں کچھ بھی نہیں تاکہ باز آ جاویں۔کیا وجہ ہے کہ تم ایسے لوگوں سے جنگ نہ کرو جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور اس رسول کے نکال دینے پر تہمتیں لگائیں اور انہوں ہی نے تم سے ابتداء (جنگ) بھی کی۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۵۳) : اس لئے نہیں کہ تمہارے ہم خیال ہو جاویں بلکہ یہ کہ بدی سے باز اآجاویں۔یہ غرض نہیں کہ سارا جہان مسلمان ہو جاوے بلکہ صرف یہ کہ فتنہ اٹھ جائے اور دین اﷲ کیلئے ہو جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء )