حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 269
ابلیس اور شیطان کی اصل جن ہے اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں بُری اور پُر ضرر ہو وہ تو ابلیس ہے اور جس چیز کا ضرر متعدی ہو۔دوسروں کو بھی دُکھ پہنچائے تو وہ شیطان ہے چنانچہ پارہ اوّل رکوع ۴ میں فرماتا ہے فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِیْسَ۔اِبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَ کَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ جب تک اس میں انکار و استکبار تھا وہ ابلیس تھا لیکن جب اس کا ضرر متعدّی ہوا اورفَاَزَلَّھُمَا مجیدمیں غور کر کے دیکھ لو۔جہاں جہاں ابلیس آیا ہے وہاں اس کا ضرر اپنی ذات میں ہے اور جہاں اس کا ضرر دوسروں تک پہنچا تو نام شیطان ہے۔احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا لفظ بہت وسیع ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک باز کو کبوتری کے پیچھے جاتا دیکھ کر فرمایا شیْطَانٌ یَّتْبنعُ شَیْطَانَۃً۔اَلنِّسَآئُ حَبَآئِلُ الشَّیژطَانِ۔غرض ظلمت کے مظاہر شیاطین ہیں اور نور کے مظاہر ملائکہ۔(تشحیذالاذہان جلد ۶ صفحہ۴۳۶) ۵۴۔ یاد رکھو۔خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ قانون یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فیضان میں تبدیلی اسی وقت ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔جب انسان خود اپنے اندر تبدیلی کرے۔اگر ہم وہی ہیں جو سال گزشتہ اور پیوستہ میں تھے تو پھر انعامات بھی وہی ہوں گے۔لیکن اگر چاہتے ہو کہ ہم پر نئے نئے انعامات ہوں تو نئے طریق پر تبدیلی کرو۔(الحکم ۲۴؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۱) ۵۹۔ اﷲ نہیں دوست رکھتا خیانت کرنیوالوں کو۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۸۱۔یج)