حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 260 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 260

اور دوسرے معنے کے لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہوئے۔’’ جب منکر تجھے بلاؤں میں پھنسانے لگے کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے نکال دیں اور پھنساتے ہیں اور پھنسائیں گے اور اﷲ تعالیٰ بہت ہی بھلا ہے اپنے مقرّبوں کے بچانے اور دشمنوں کو عذاب دینے میں۔‘‘ تیسرے معنے کے لحاظ ( مخفی تدبیر ) سے آیت کے یہ معنے ہوئے۔’’ جب مخفی تدبیر کر رہے تھے تیرے نسبت وہ جو منکر ہوئے کہ تجھے قید کر لیں یا قتل کر دیں یا تجھے نکال دیں اور مخفی تدبیر کرتے ہیں اور کریں گے اور اﷲ مخفی تدبیر کرتا ہے اور اﷲ بہت ہی بھلا مخفی مدبّروں میں سے ہے۔‘‘ مکرؔ کا لفظ بلا اضافت عام مفہوم رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں شریروں کے ارادوں کی طرف منسوب کیا گیا وہاںمَکْرُ السَّییِ یعنیمَکرِبَدْ کر کے ذکر کیا گیا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مکر بُرا بھی ہوتا ہے اور بھلا بھی۔اس میں قرآن کریم کا خود ارشاد ہے (الفاطر:۴۴) اور بُرے منصوبے کرنیوالوں کا وبال خو دان پر ہی پڑتا ہے۔فَانْطُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِھِمْ اَنَّا دَمَّرْنَا ھُمْ وَقَوْمَھُمْ اَجْمَعِیْنَ (النمل:۵۲) پس تُو دیکھ کہ ان کے منصوبوں کا انجام کیا ہوا۔ہم نے ان سب کو مع ان کو قوم کے تباہ کر دیا۔اور مفرداتِ راغبؔ میں ہے۔وَذٰلِکَ ضَرَِْانِ مَکْرٌ مَحْمُوْدٌ نَّھُوَاَنْ یَتَحَرَّی بِذٰلِکَ فِعْلٌ جَمِیْلٌ وَ عَلٰیذٰلِکَ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی وَاﷲُ خَیْرُالْمَکِرِیْنَ۔وَ مَذْمُوْمٌ وَھُوَاَنْ یَتَحَرَّی بِہٖ فِعْلٌ قَبِیْحٌ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السّیِّیِّئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ‘‘ یعنی مکر کی دو قسمیں ہیں ایک مکرِ محمود ہے جس سے نیک اور عمدہ کام کا قصد کرنا مقصود ہے چنانچہ ان ہی معنوں سے خدا تعالیٰ نے اپنی نسبت فرمایا وَاﷲُ خَیْرُالْمَکِرِیْن اور دوسری قسم مکرِ مذموم ہے یعنی بُرے فعل کا ارادہ کرنا۔یہی معنی ہیں اس آیت کے وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السّیِّیِّئُ …الخ