حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 259

۳۱۔ : متقی کو تمام مشکلات سے مخلصی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا واقعہ پیش کرتا ہے۔خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ: تدبیر کرنیوالوں میں خیر و برکت والا تو خدا ہی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) مفردات راغب عربی کی مستند لُغت قرآن میں لفظ’’ مکر‘‘ کے نیچے لکھا ہے۔(اَلْمَکْرُ)صَرْفُ الْغَیْرِعَنْ مَقَاصِدِہٖ بِحِیْلَۃٍ۔مخالف کے مقاصد کو تدبیر سے روک دینا مکر ہے۔ابن الاثیرؔ جس نے لُغت قرآن و حدیث پر کتاب لکھی ہے لکھتا ہے۔(مَکْرُ اﷲِ)’’اِیْقَاعُ بَلَائِہٖ بِاَعْدَائِہٖ‘‘دُوْنَ اَوْلِیَآئِہٖ۔الہٰی مکر کے معنی ہیں مخالفانِ الہٰی پر عذاب کا ڈالنا اور مقرّبوں کو ان عذابوں سے بچانا۔لسان العرب میں ہے جو عربی لُغت کی بڑی مستند کتاب ہے اَلْمَکْرُ اِحْتِیَالٌ فِیْ خُفْیَۃ یعنی مخفی تدابیر کو مکر کہتے ہیں۔بلکہ قرآن کریم نے ان معافی کی خود بھی تفصیل فرمائی ہے۔جہاں فرمایا ہے۔ ۔یعنی جب تیرے مقاصد کو ان لوگوں نے جو منکر ہوئے تدابیر سے روکنا چاہا اس طرح پر کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کر دیں یا وطن سے تجھے نکال دیں اور وہ تدبیریں کرتے ہیں اور کریں گے۔اور اﷲ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے اور کرے گا اور اﷲ تعالیٰ ان کی تمام تدبیروں پر غالب آنے والا اور اس کی تدابیر ہمہ خیر ہوتی ہیں۔