حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 24

     : نیند کا غلبہ۔سراب سے بدمَست ہونا۔:اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان نماز سمجھ کر پڑھے۔:جو لوگ انگریزی پڑھے ہوئے نہیں۔اور ان کو ریل وغیرہ کے سفر میں نہانے کا موقع نہ ملے یا آسانی سے نہ ملے تو ایسے مسافر کو تیمم کر کے نماز پڑھ لینی چایئے۔اور اسی قسم کی مجبوریوں میں انسان تیمم کرے، ورنہ بِلا غسل نما ز نہ پڑھے : عوام کو بیماری کی حالت میں خواہ وہ بیماری کیسی ہو تیمم کے ساتھ نماز پڑھنیے چاہیئے کیونکہ بیماریوں کے حقائق تو اطباء سے بھی بعض اوقات مخفی رہتے ہیں کہ تیمم مُضر ہے یا مُفید۔ایک دفعہ مَیں نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے شروع کئے تو میری بیماری دستوں کی رَفع ہو گئی۔میں سمجھا۔یہ روزے تو اکسیر ہیں لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میری قوّتِ رجولیت قطعی مفقود ہو گئی۔پھر میں نے اٹھارہ بیس روز خوب توبہ کی جب کہیں جا کر وہ کیفیت دُور ہوئی۔غَائِطِ: علیحدہ مکان۔اونچی جگہ جہاں سے چھنٹیں اُڑ کر نہ پڑیں۔لَمْسٌ: ہتھیلی کی طرف سے انگلیوں سے چھُونا۔اُلٹے ہاتھ سے چھُونالَمس نہیں۔دوسرے معنے جماع۔تیمم کا طریق یہ ہے کہ زمین پر دونوں ہاتھ مارے۔پھر پھُونک دے تا کوئی کنکر وغیرہ ہاتھ کو لگ گیا ہو تو چھُوٹ جائے۔پھر مُنہ پر پھیر کر ہاتھ پہنچوں تک ایک دوسرے سے مَل لے۔یہ وہ طریق ہے