حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 242
قرآن کا یہ عجیب مُعْجِر طریق ہے کہ وہ ایسے باریک مسائل کو اس نہج میں ادا کرتا ہے کہ اس سے عالم و جاہل یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔عیسائی ظاہربین الفاظ پرست ان اسرار کو کیا سمجھیں وہ تو کتب الہامیہ کے خصوصیات اور ان کے طرق ادائے مطلب سے آشناہی نہیں ہوئے۔خواہ مخواہ ہر ایک حقیقت پرا عتراض جماد دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔گو وہ اناجیل ہی میں کیوں نہ ہو۔(فصل الخطاب صفحہ۱۴۸ ایڈیشن سوم) جب لی تیرے رب نے اولادِ آدم سے، اُن سے اُن کی اولاد۔اور گواہ کیا ان کو ان کی جانوں پر۔کیا میں تمہارا ربّ نہیں؟ انہوں نے کہا بیشک ہم قائل ہیں۔کبھی کہو قیامت کے دن۔ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔یعنی آدمی کو اﷲ تعالیٰ نے آدمیوں سے بنایا اور آدمی میں ایسی عقل اور فطرت رکھی جس سے وہ اپنے رب کا قائل اور اپنے خالق کی ربوبیت کا اقرار ضرور کرتا ہے۔یہ اس لئے کہ محکمہ جزا و سزا میں ایسا نہ کہہ دے کہ مجھے تو خبر نہ تھی۔مِنْ ظُھُوْرِھِمْ کا ترجمہ ’’ اُن سے ‘‘ کیا گیا۔اس لئے کہ لغت کی کتابوں میں لکھا ہے بَیْنَ اَظْھُرِھِمْ۔اَیْ وَسْطِھِمْاورکُنْتِ بَیْنَ اَظْھُرِنَا اَیْ بَیْنَنَااس آیت کا ذکر اس لئے کیا کہ اس آیت شریف سے کوئی رُوح کا قبل الجسد موجود ہونا نہ سمجھ لے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۳۳) ۱۷۶۔ : کچھ کتاب دی۔: اس پر عمل نہ کیا۔الگ ہو گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۷۷۔