حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 241

: ہر ایک لڑکے کو جب ہوش آتا ہے تو وہ اپنے پر گواہ ہوتا ہے کہ میں اپنا ربّ نہیں ہوں بلکہ ایک اور مدّبر بالارادہ ہستی ہے۔میں تو اپنے آپ سے یہ سوال کر کے اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ میرا ربّ وہی ہے جو ربّ العٰالمین ہے ایک شخص نے کیا ہی عمدہ دلیل دی ہے۔اَلْبَعْرَۃُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ۔وَاَثَرُالْقَدَمِ عَلٰی السَّفَرِ اَمَا تَقُوْلُ اَنَّ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوَتِ تَدُلُّ عَلَی الْعَلِیْمِ القَدِیْرِ۔؟۱؎ (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : ہر بنی آدم کو عقل کے وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ میرا کوئی ربّ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۵) مِنْ ظُھُوْرِھِمْکالفظ زبان عرب میں زائدآیا کرتا ہے۔دیکھو قاموس۔۔بَیْنَ اَظْھُرِھِمْ۔اَی ۱؎ ترجمہ: منیگنی اونٹ کے وجود پر دلیل ہے اور قدموں کے نشان کسی کے گزرنے کی دلیل ہے تو یہ آسمان و زمین کیوں خدائے علیم و قدیر کی ذات پر دلیل نہیں ( مرتب) وَسْطِھِمْ۔بَیْن کا لفظ وسط کے معنی دیتا ہے۔اور اظہرؔ کا لفظ زائد ہے معنی اس فقرے کے ، اُن کے بیچ یا ان میں۔حدیث میں بھی یہ محاورہ آیا ہے۔دیکھو مشکوٰۃ باب الایمان صفحہ ۷۔کُنْتِ بَیْنَ اَظْھُرِنَا۔آپ تھے ہم میں۔محاورہ عرب میں دیکھومَا اَفْصحَکَ وَ مَا خَرَجْتَ مِنْ اَظْھُرِنَا۔تَو کتنا فصیح ہے اور تو ہم سے کہیں الگ نہیں نکلا۔اور عرب بولتے ہیں کَانَ یَنْشُدُ عَنِ ظَھْرِقَلْبِہٖ یعنی وہ دل سے یا از بر شعر پڑھتا تھا۔ظہرؔ کا لفظ زائد ہے۔اصل مطلب آیت کا یہ ہے۔کہ عادل، رحیم و قدّوس خدا نے تمام بنی آدم میں ان کی بدئِ فطرت میں ایک قوتب ایمانیہ اور نورِ فراست و دیعت رکھا ہے جو ہمیشہ وجودِ الہٰی اور اس کی ربوبیت کا اقرار یاد دلاتا رہتا ہے یا اَقَلّا،یوں کہو کہ اگر مثلاً کسی عارض کے باعث غافل بھی ہو جاوے تو بھی چونکہ اصل فطرت میں وہ قوّت مجبول کی گئی ہے۔کسی بیرونی محّرک کے سبب سے حرکت میں آ جاتی ہے۔ہاں اگر کسی بے ایمان کے اندر کسی باعث وہ قوّت بالکل مر گئی ہو اور وہ کمبخت اتھاہ کنویں میں جا پڑا ہو اور شیطان کا فرزند بن کر آسمانی دفتر سے اس نے اپنا نام کٹوا لیا ہو۔تو یہ اُس کا اپنا قصور ہے۔عادل خدا کی ذات اس سے منّزہ ہے۔اب اسی کی فطرت کے اقرار کو۔اُسی ربوبیتِ الہٰی کے جبلی معترفِ فطرت کو الہامی زبان۔ربّانی کلام اس طرز عبارت میں بیان فرمایا ہے۔اور اس دقیق فطرت کے راز کو اس طرح پر انسان کو سمجھاتا ہے کہ انسان بدفطرت میں میری ربوبیت کا اقرار کر چکا ہے۔یعنی الوہیت ایزدی کا اعتراف انسان کا جبلّی اور فطری ہے۔اور اس کی ترکیب و ہیئت ہی اس امر پر شاہد عادل کافی ہے