حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 22

   :لوگ غیروں سے احسان کرتے ہیں۔پر اپنوں سے نہیں۔بنی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔رِحم نے جنابِ الہٰی میں عرض کیا۔تیرے نام رحمن رحیم میں بھی یہی مادہ موجود ہے میرا لحاظ رکھو۔اﷲ نے فرمایا۔میں تیرا ایسا خیال رکھوں گا۔جو تجھے قطع کریگا۔میں اس سے قطع کروں گا۔: ایک سیٹ پر بیٹھنے والے۔ساتھ کے دکاندار۔ہم نشین۔ہم عہدہ۔ہم محکمہ۔ہم دفتر۔ایک آقا کے دو ملازم۔ایک جہاز یا ریل کے سوار۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) : اس میں مذہب کی قید نہیں۔:کلاس فیلو۔ہم پیشہ۔رفیقِ سفر۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۸) : اکڑباز۔شیخی خور ہو۔اﷲ تعالیٰ اُسے دوست نہیں رکھتا۔(تشحیذالاذہان اکتوبر ۱۹۱۱ء جلد۶ نمبر۱۰ صفحہ ۳۹۵) ۳۸۔  جو بُخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بُخل کی تحریک کرتے رہتے ہیں اور جو اﷲ نے اپنے فضل سے انکو دیا ہے چھُپاتے ہیں اور ہم نے ایسے مُنکروں کیلئے اہانت کرنے والا عذاب تیار کیا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۰ صفحہ ۳۹۵) کسی کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اُسکے دینے سے مضائقہ کرے۔یہ تو عام لوگوں کے نزدیک بُخل ہے۔قرآن کریم کی اصطلاح میں سچّی بات اور مفید مشوروں کے دینے سے جو لوگ اپنے آپ کو روکیں وہ بھی بخیل ہیں۔لوگ اپنی اولاد کو الگ قرآن مجید پڑھاتے ہیں۔یہ بھی بُخل ہے۔اپنے ایک دوست سے مَیں نے کتاب مانگی