حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 225
: یہ بات غور کرنے کے قابل ہے کہ وہ اپنے معبود کو ایسا کمزور خیال کرتے ہیں کہ موسٰی اسے موقوف کر سکتا ہے۔جو قومیں ربّ العالمین کو چھوڑ کر غیر کی طرف جھکتی ہیں۔ان کی عقل ایسے ہی ماری جاتی ہے۔بعض ملکوں میں رعایا تو بادشاہ کی پوجا کرنے پر مجبور ہے اور بادشاہ خدا کی۔اس میں حکمت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رعایا پر شرک کی وجہ سے ناراض رہے تو وہ ہمیشہ محکوم رہیں۔اور بادشاہ پر بوجہ تو حیدر راضی رہے تو وہ ہمیشہ حکام بنا رہے۔بُت پرستوں سے بدتر وہ ہیں جو بُتوں کو چھوڑ کر نفس کی دیوی کی پرستش کرتے ہیں۔پھر ان سے بھی بدتر وہ ہیں جو یہی کہتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں فلاسفر کا یہ قول ہے حالانکہ فلاسفروں کا کسی بات پر اجماع نہیں ہوتا۔میںنے ایک فلاسفر کا قول پڑھا ہے کہ وہ اپنے تئیں خدا سے اعلیٰ سمجھتا۔وہ کہتا۔کہ گلاب کی جڑسے گلاب کا پھول جو اس کا نتیجہ ہے۔اچھا ہے۔: اﷲ کی توجہ۔عنایت۔اعانت چاہو۔: استقلال سے کام کرو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۹ء) عِنْدَ رَبِّکَ : یاد رکھو انجام کار کامیابی خدا ترسوں کے حصّہ میں آتی ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۰۳) ۱۳۰۔ : وہ جو سطحی خیالات کے تھے۔: ایک جگہ مسلمانوں کو بھی فرماتا ہے کہ تم کو بھی ہم دنیا میں بادشاہ بنائیں گے۔پھر دیکھیں گے تم کیسا عمل درآمد کرتے ہو۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۳۱۔