حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 224
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے اور یہ لوگ اور ان کے دل و دماغ کے نیچری بھی بدقسمتی سے اسی قسم ے اعتراضوں یا وسوسوں میں مبتلا ہیں۔اور جہاں کسی معجزہ کا ذکر ہو اُسے ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔اس وقت مناسب یہ ہے کہ ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب بڑی قوّت اور تحدّی سے دیا جاوے کہ جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء علیھم السّلام کے اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے قرآن میں مذکور ہیں ان سب کے صدق اور حقیقت کے ثابت کرنے کیلئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعوٰی ہے کہ اسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں۔جو انبیاء علیھم السلام کوملی تھیں۔جو عجائبات خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسٰی علیھم السّلام کے ہاتھ پر منکروں کو دکھائے۔وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا آج اس کے ہاتھوں پر دکھانے کو موجود ہے اور تیار۔کوئی ہے جو آزمائش کے لئے قدم اٹھائے؟ غلام کے ہاتھ سے آقا کی صداقت کو دیکھے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۵۴۔۱۵۶) : پہلا پرچہ مباحثات میں دشمن کا ہو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۴) لَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ دِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ثُمَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ: یہ بھی دستور تھا کہ قتل کر کے پھر صلیب پر لاش لٹکا دیتے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۴) ۱۲۸،۱۲۹۔